اسلا م آباد ،27 دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی قتل کے واقعہ کو چودہ برس بیت گئے، مگر ان کے قتل کے معمہ آج تک حل نہیں ہوسکا۔ پیپلز پارٹی بے نظیر کی شہادت کے فوری بعد اقتدار میں آئی، مگر اب صرف صوبہ سندھ تک محدود ہوچکی ہے۔بے نظیر بھٹو کے یوم شہادت پر صوبہ سندھ میں حکومتی سطح پر عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ ملک بھر سے پارٹی کارکن اور بے نظیر بھٹو کے مداح قافلوں کی صورت میں انکے مزار پر حاضری کیلئے لاڑکانہ پہنچے ہیں اور شہر میں سرد موسم کے باوجود خاصی گہما گہمی ہے۔
بے نظیر بھٹو کی دیرنہ ساتھی ناہید خان پارٹی سے الگ کئے جانے کے باوجود اس برس بھی لاڑکانہ آئی ہیں۔ بے نظیر بھٹو کی زندگی میں انکی پولیٹیکل سیکریٹری کے طور پر خدمات سرانجام دینے والی ناہید خان شاکی ہیں کہ پارٹی اقتدار میں رہی مگر بے نظیر کے قتل کی تحقیقات اس انداز میں نہیں ہوسکیں جس کی بنا پر قتل کے محرکات اور سہولت کاری کے حوالے سے اسباب سامنے لائے جاسکے۔
ناہید خان نے کہا کہ بے نظیر کی زندگی میں پارٹی کارکنوں اور ووٹرز کا ان سے براہ راست گہرا تعلق تھا مگر ان کے بعد یہ تعلق ختم ہوگیا، کسی پر الزام نہیں لگا رہی، لیکن عالمی سطح کے لیڈر کی قتل کی تحقیقات میں کوتاہی کی گئی ہے۔بلاول بھٹو کے سیاسی مستقبل کے حوالے پوچھے گئے سوال پر ناہید خان نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے سیاست میں آنے کے بعد بہت دکھ جھیلے ہیں مگر بلاول کو ابھی تک ان مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا جو انکی والدہ کی راہ میں ہمیشہ حائل رہیں۔
انکا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کے بعد پاکستانی سیاست میں لیڈرشپ کا فقدان صاف دکھائی دیتا ہے اور قومی سطح کے لیڈر نظر نہیں آتے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس بے نظیر کی شہادت کو پاکستان سیاست کیلئے المیہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی بے نظیر بھٹو کے بعد قیادت کا خلا پر کرنے میں ناکام رہی ہے۔
بعض مبصرین پارٹی کا بھٹو اور بے نظیر کی طرز سیاست کی جائے آصف علی زرداری کی جوڑ توڑ اور موقع پرستی کے ذریعے چلانے کو قرار دیتے ہیں۔ تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کہ 18 اکتوبر کو بے نظیر بھٹو کے استقبالی قافلے پر خودکش حملہ اور 27 دسمبر کو بے نظیر بھٹوکی شہادت ایک ہی سازش کی کڑیاں ہیں اور معاملے کی تحقیقات بے نظیر بھٹو کے اس خط سے شروع ہونی چاہیے ، جس میں انہوں نے واضح طور پر لکھا تھا کہ اگر انہیں قتل کردیا جائے تو ذمہ دار جنرل پرویز مشرف، سابق ڈی جی آئی ایس آئی حمید گل، پرویز الہٰی ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ الزام درست یا غلط ہونے سے قطع نظر اس خط کو ایف آئی آر کا حصہ بنانا چاہیے تھا ،اور کم از کم ان لوگوں سے بات تو کی جاسکتی تھی، یہی وجہ ہے کہ 14 سال بعد بھی بے نظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔
’’بینظیر بھٹو کا قتل روکا جا سکتا تھا‘‘، نئی کتاب سابق وزیر داخلہ اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر رحمان ملک نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے 14ویں یوم شہادت کے موقع پر ان کے قتل کے حوالے سے 28 انتہائی اہم اسباب اور لیاقت باغ کے واقعے میں ملوث کرداروں کی تمام تفصیلات ایک کتاب کی شکل میں مرتب کیے ہیں۔
کتاب انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں شائع کی گئی ہے جو عوام کے لئے مفت ہے اور اسکی باقاعدہ رونمائی پریس کانفرنس میں کی گئی۔



