
سپا سینٹر کی آڑ میں سیکس ریکیٹ کا گورکھ دھندہ ، 16 خواتین اور مرد گرفتار
دہراد ون ، ۲۲؍اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اعلیٰ حکام کو اتراکھنڈ کے دارالحکومت دہرادون کے سپا سینٹر کی آڑ میں غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں ، جس پر سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ، دہرادون کو مذکورہ سپا سینٹرز پر کارروائی کی ہدایت دی گئی۔ #سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سٹی میڈم اور نوڈل آفیسر اینٹی ہیومن ٹریفکنگ آفیسر نہرو کالونی کی ہدایت پر اتوار کو راج پور روڈ پر سٹی سنٹر کمپلیکس میں واقع وائٹ لوٹس سپا اور اینجل سپا پر چھاپے مارے گئے ، اینجل سپاکے 4 کمروں سے 4خواتین، اور5 مرد قابل #اعتراض پوزیشن میں #پکڑے گئے ٰاور 2 مرد اور 2 #خواتین وائٹ لوٹس سپا سے قابل اعتراض حالت میں گرفتار ہوئے ۔
دونوں سپاسینٹر سے بھاری مقدار میں قابل اعتراض اشیاء بھی ملا۔ پوچھ گچھ پرگرفتار خواتین نے بتایا کہ وہ سپا کے مالک راجہ قریشی اور اس کی بیوی فرح قریشی اور عمر راہی کے لالچ میں آکر تمام سپاسینٹر میں غیر #اخلاقی #حرکتیں کرتی ہیں۔ مذکورہ کام کے لیے موصول ہونے والی رقم میں سے ایک مقررہ رقم مذکورہ سپا سینٹرز کے مالکان کو دی جاتی ہے۔ وائٹ لوٹس سپا عمر راہی کے نام پر رجسٹرڈ ہے اور وائٹ لوٹس #سپا فرح قریشی کے نام پر رجسٹرڈ ہے اور مذکورہ تین شراکت دار ہیں۔
سپا میں سنی کوری نامی لڑکی استقبالیہ میں اور انکت کمار نامی لڑکے کو خدمات کے لیے رکھا گیا ہے ، جنہیں مذکورہ غیر قانونی کاروبار کا مکمل علم ہے اور یہ دونوں اس کام میں تعاون بھی کرتے ہیں ۔موقع پر پکڑے گئے 7 لڑکوں نے بتایا گیا کہ سپا میں مساج کے بیچ میں لڑکیوں کو بہت سے کام کرنے کا لالچ دیا جاتا ہے ، تاکہ گاہکوں سے پیسے کمائے جائیں۔
موقع پر ملنے والی کوئی بھی #لڑکی معالج یا مساج کے شعبہ میں کوئی ڈگری نہیں دکھا سکی۔ واضح ہو کہ یہ تمام لڑکیاں مختلف ریاستوں کی رہنے والی ہیں، جو ’کچھ ‘پیسوں کے لالچ میں غیر اخلاقی حرکتیں کرتی ہیں ۔



