
2026 میں دنیا کے خاتمے کی پیش گوئی؟ 13 نومبر کی تاریخ کیوں زیرِ بحث ہے
2026 کے بارے میں 60 سال پرانی پیش گوئی نے ہلچل مچا دی
نیویارک، 21 ستمبر (اردودنیا نیوز/ایجنسیز) دنیا کے خاتمے سے متعلق تقریباً چھ دہائیاں پرانی ایک سائنسی تحقیق نے 2026 میں ایک بار پھر لوگوں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ تحقیق میں ایک ریاضیاتی ماڈل کی بنیاد پر 13 نومبر 2026 کی تاریخ کا ذکر کیا گیا تھا اور خبردار کیا گیا تھا کہ اگر دنیا کی آبادی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو انسانی معاشرہ ایک انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہوسکتا ہے۔
یہ تحقیق 1960 میں امریکی سائنسی جریدے ’’سائنس‘‘ میں شائع ہوئی تھی۔ اسے الینوائے یونیورسٹی سے وابستہ تین محققین ہائنز فون فورسٹر، پیٹریشیا ایم مورا اور لارنس ڈبلیو امیوٹ نے تیار کیا تھا۔ تحقیق کا عنوان ہی ’’Doomsday: Friday, 13 November, A.D. 2026‘‘ تھا، جس کی وجہ سے 13 نومبر 2026 کی تاریخ بعد میں دنیا کے خاتمے سے متعلق متعدد دعوؤں کا حصہ بن گئی۔
محققین نے اُس وقت دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے رجحانات کا ریاضیاتی جائزہ لیا تھا۔ ان کا بنیادی مفروضہ یہ تھا کہ اگر آبادی میں اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو ایک خاص مرحلے پر آبادی کے دباؤ اور وسائل کے درمیان توازن شدید متاثر ہوسکتا ہے۔
1960 میں دنیا کی آبادی تقریباً تین ارب کے قریب تھی، جبکہ آج عالمی آبادی آٹھ ارب سے تجاوز کرچکی ہے۔ اسی فرق کو بنیاد بنا کر بعض رپورٹس میں پرانی تحقیق کو دوبارہ پیش کیا جارہا ہے اور یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ 2026 میں دنیا کسی بڑے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔
تاہم اس تحقیق کو دنیا کے یقینی خاتمے کی سائنسی پیش گوئی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اس وقت پیش کیا گیا حساب اُس دور کے آبادیاتی رجحانات کو مستقبل تک برقرار رکھنے کے مفروضے پر مبنی تھا۔ بعد کے برسوں میں دنیا بھر میں شرح پیدائش اور آبادی میں اضافے کی رفتار میں نمایاں تبدیلیاں آئیں، جس کے باعث 1960 کے مفروضوں کو موجودہ حالات پر براہِ راست لاگو نہیں کیا جاسکتا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تحقیق کے اہم مصنف ہائنز فون فورسٹر نے بعد کے برسوں میں مصنوعی ذہانت اور مشینی ذہانت کے حوالے سے بھی خیالات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اس تصور پر سوال اٹھایا تھا کہ مشینوں کی ذہین کارکردگی کو لازماً انسانی سوچ اور ذہانت کے برابر سمجھا جائے۔
فون فورسٹر کا 2002 میں انتقال ہوگیا، لیکن مصنوعی ذہانت کے بارے میں ان کے خیالات آج کی ٹیکنالوجی کے دور میں دوبارہ زیرِ بحث آتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض رپورٹس میں ان کی پرانی آبادیاتی تحقیق اور مصنوعی ذہانت سے متعلق خیالات کو ایک ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔
موجودہ آبادیاتی اندازے تاہم فوری طور پر دنیا کے خاتمے کی تصویر پیش نہیں کرتے۔ عالمی آبادی کے بارے میں موجودہ تخمینوں کے مطابق دنیا کی آبادی آنے والی کئی دہائیوں تک بڑھ سکتی ہے اور 2080 کی دہائی کے وسط کے آس پاس تقریباً 10.3 ارب تک پہنچنے کے بعد اس میں کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اس طرح 13 نومبر 2026 کی تاریخ بنیادی طور پر 1960 میں کیے گئے ایک مخصوص ریاضیاتی حساب سے نکلی تھی۔ اسے موجودہ دور میں دنیا یا انسانیت کے یقینی خاتمے کی تاریخ قرار دینا سائنسی طور پر درست نہیں۔ البتہ یہ پرانی تحقیق اس بات کی یاد دہانی ضرور کراتی ہے کہ آبادی میں اضافہ، وسائل، ماحولیات اور انسانی ضروریات کے درمیان توازن مستقبل کے لیے اہم عالمی مسائل میں شامل ہیں۔



