انصاف رسانی میں تاخیر سے کئی زندگیاں تباہ، بے قصور افراد کو حراست میں نہ لینے پولیس کو مشورہ
عادل آباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) متحدہ ضلع عادل آباد کے بھینسہ سے تعلق رکھنے والے 18 مسلمانوں کو فرسٹ ایڈیشنل جج نے آج بے قصور قرار دیتے ہوئے باعزت بری کردیا۔ مقدمہ کی پیروی عادل آباد کے محمد غوث ایڈوکیٹ نے کی۔ واضح رہے کہ 10 اکٹوبر 2008ء بروز جمعہ بھینسہ میں سری درگاہ وسرجن جلوس کے دوران بھیانک فرقہ وارانہ فساد برپا ہوا تھا۔ دوسرے دن ہفتہ کی شب بھینسہ سے متصل موضع وٹولی میں 6 مسلم افراد پر مشتمل خاندان کو ایک مکان میں زندہ جلانے کا واقعہ بھی رونما ہوا تھا۔ فسادات میں ملوث ہونے کے الزام پر بھینسہ کے 18 مسلمانوں کو پولیس نے حراست میں لے کر ان پر مقدمہ درج کیا تھا۔
14 سال قبل پیش آئے اس واقعہ میں بھینسہ کے بے قصور 18 مسلمانوں کو جیل میں محروس رکھنے اور کیس میں پولیس کی جانب سے ملوث قرار دینے کی بنا پر کئی خاندان تباہ ہوگئے۔ بعض کی موت بھی واقع ہوچکی ہے۔ مناسب شواہد نہ ہونے پر 18 مسلمانوں کو باعزت بری کردیا گیا۔ فاضل جج کے فیصلہ کے بعد محمد غوث ایڈوکیٹ نے میڈیا سے بات کی اس موقع پر ایم اے رحیم ایڈوکیٹ بھی موجود تھے۔



