ایک تہائی یورپی باشندے امریکیوں پر اعتماد نہیں کرتے، سروے میں انکشاف

برلن:(ایجنسی)سال 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدرمنتخب ہو نے کے بعد اب 32 فیصد یورپی باشندوں کویقین ہے کہ امریکیوں پراعتماد نہیں کیا جاسکتا۔یہ بات یورپ بھر کے 11 ممالک کے 15ہزارسے زائد افراد سے کئے گئے ایک سروے کے حوالے سے کہی گئی ہے۔یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات نامی تھنک ٹینک کو سروے سے معلوم ہوا ہے کہ جرمنی میں 53 فیصد رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات سے مستحکم اتفاق یا اتفاق ہے کہ سال 2016 کے انتخابات کے بعد امریکیوں پرمزید بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔
اس سروے میں 36 فیصد سویڈش رائے دہندگان کے بارے میں بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ بھی 2016 کے بعد یقین نہیں کرتے کہ امریکی قابل اعتماد ہیں۔علاوہ ازیں کل 61 فیصد رائے دہندگان کا خیال تھا کہ امریکی سیاسی نظام مکمل یا کسی حد تک ٹوٹا ہوا ہے۔ خاص طور پر 81 فیصد برطانوی،71 فیصد جرمن اور 66 فیصد فرانسیسی افراد یہی خیال کرتے ہیں۔پولینڈ اور ہنگری وہ دو ممالک تھے جن کے امریکہ کے بارے میں خیالات مثبت تھے، ہنگری کے 56 فیصد اورپولینڈ کے 58 فیصد باشندوں کاکہنا تھا کہ امریکی سیاسی نظام بہتر یا کسی حد تک بہتر طور پر کام کررہا ہے اور صرف 23 فیصد پولش باشندے اور 19 فیصد ہنگری کے شہری ہی 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دینے کے بعد امریکیوں پر اعتماد نہیں کرتے۔
بیشتر یورپی باشندوں نے نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن کی فتح پر خوشی منائی تاہم وہ نہیں سمجھتے کہ وہ امریکہ کو ایک ممتاز عالمی قائدانہ حیثیت واپس دلانے میں مدد کرسکتے ہیں۔رائے دہندگان نے یورپی یونین اور یا ان کے اپنے ملکوں کے نظاموں کو امریکہ کے مقابلے میں بہت زیادہ مثبت قرار دیا ہے اورسب سے اہم شراکت دار کی حیثیت سے واشنگٹن کی بجائے برلن کی طرف دیکھا ہے۔



