قومی خبریں

سدھو موسے والا قتل سانحہ میں شامل 4 شوٹرس انکاونٹر میں ہلاک

چنڈی گڑھ ، 20جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) پنجابی گلوکار سدھو موسیٰ والا قتل سانحہ میں شامل چار شوٹرس پولیس انکاونٹر میں مارے گئے ہیں۔ پنجاب پولیس کے جنرل ڈائریکٹر نے اس کی تصدیق کی ہے۔ ان میں جگ روپ روپا اور من پریت منو گینگسٹر شامل ہیں، جو کہ فرار چل رہے تھے۔ وہیں دو دیگر بدمعاشوں کی پہچان کی جارہی ہے۔ حالانکہ یہ تصدیق نہیں ہے کہ یہ دونوں بھی موسیٰ والا کے قتل میں شامل تھے۔ امرتسر ضلع کے اٹاری گاؤں میں پاکستان کی سرحد سے متصل چچا بکھنا گاؤں میں یہ تصادم تقریباً 6 گھنٹے تک چلی۔ اس دوران 3 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگئے ہیں۔پنجاب کے ڈی جی پی گورو یادو نے کہا کہ سدھو موسیٰ والا قتل معاملے میں جو دو شوٹر منو اور روپا فرار تھے، دونوں کی آج تصادم میں موت ہوئی ہے۔ وہیں 3 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں، جو خطرے سے باہر ہیں۔

موقع سے ایک اے کے -47 اور پستول بر آمد ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک بیگ بھی ملا ہے، جس کی جانچ چل رہی ہے۔اس سے قبل خبر آئی تھی کہ پنجاب کے امرتسر ضلع کے اٹاری گاؤں میں پاکستان کی سرحد سے متصل چچا بھکنا گاؤں میں سدھو موسیٰ والا کے قاتلوں کے ساتھ امرتسر پولیس کا انکاونٹرچل رہا ہے۔ ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق قاتل جگ روپ روپا اور منو کوسا کے ساتھ انکاونٹر چل رہا ہے۔

پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ یہ دونوں گینگسٹر گاؤں میں چھپے ہوئے ہیں۔امرتسر پولیس اور گینگسٹر کے درمیان کئی راونڈ فائرنگ ہوئی ہے۔ پولیس کے کئی سینئر افسر موقع پر موجود ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے پورے علاقے کو سیل کردیا ہے۔ دونوں ہی شوٹر پنجاب کے ترن تارن ضلع کے رہنے والے ہیں۔ دونوں گینگسٹر لارنس بشنوئی اور گولڈی براڑ کے لئے کام کرتے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ 29 مئی کو پنجابی گلوکار اور کانگریس لیڈر سدھو موسیٰ والا کا گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔ اس قتل کا تار پولیس نے لارنس بشنوئی اور گولڈی براڑ سے جڑا تھا۔ اسی ضمن میں گینگسٹر گولڈی براڑ نے ایک ویڈیو جاری کرکے پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل سے متعلق کچھ ضروری باتیں بتائی تھیں۔

جاری کئے گئے ویڈیو میں گولڈی براڑ نقاب پوش ہے، اس کا چہرہ نہیں دکھائی دے رہا ہے، لیکن پنجاب اور دہلی پولیس نے اس ویڈیو میں گولڈی براڑ نے کہا کہ میرا نام گولڈی براڑ ہے۔ میں مکتسر صاحب کا رہنے والا ہوں۔ آپ سب لوگ مجھے جانتے ہی ہو۔ گزشتہ کافی وقت سے آپ سبھی لوگ میرا نام خبروں میں سن رہے ہوں گے۔ سدھو موسے والا کیس سے میرا نام جوڑا گیا۔ مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے، میں نے پہلے بھی بولا تھا کہ یہ کام میں نے کروایا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button