
واشنگٹن ،07؍اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سینکڑوں امریکیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا کے صدر جو بائیڈن نائن الیون کی تحقیقاتی دستاویز جاری کریں۔ نائن الیون کے واقعے کے متاثرین کے اہلِ خانہ کی جانب سے امریکی صدر سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ نائن الیون کے ذمے داروں کے تعین تک صدر بائیڈن یادگاری تقریب سے دور رہیں۔واضح رہے کہ اگلے ماہ ستمبر میں نائن الیون کی 20 ویں برسی منائی جائے گی اور اسی روز اس واقعے کی یادگاری تقریب بھی منعقد ہو گی۔
امریکی شہریوں کی جانب سے یہ مطالبہ امریکا کی جانب سے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد سامنے آیا ہے۔امریکہ میں پیش آنے والے سانحہ نائن الیون کے متاثرین نے صدر جوبائیڈن سے واقعے سے متعلق تحقیقاتی دستاویزات سامنے لانے تک برسی کی تقریبات میں شرکت نہ کرنے کا مطالبہ کردیا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق اس سلسلے میں 1800 افراد کی جانب سے ایک خط پر دستخط کیے گئے ہیں جس میں امریکی صدر سے دستاویزات جاری کرنے مطالبہ کیا گیا جب کہ خط میں کہا گیا ہے کہ انہیں یقین ہے اس سانحہ میں سعودی حکام کی منصوبہ بندی شامل ہے۔متاثرین نائن الیون نے کہا ہے کہ اگر صدر جوبائیڈن سانحہ سے متعلق دستاویزات سامنے لانے سے انکار کرتے ہیں تو انہیں آئندہ ماہ اس سلسلے میں ہونے والی تقریبات سے دور رہنا چاہیے۔
متاثرین کا کہنا تھاکہ انہیں اپنے عظیم نقصان کے بعد اب کچھ بہتر یقین نہیں ہے، اگر صدر اپنے وعدے کو پورا کرتے ہیں تو انہیں ان مقدس مقامات پر خوش آمدید کہیں گے، بصورت دیگر امریکی صدر ان حملوں کے مقامات سے دور رہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرین کا کہنا ہےکہ #سعودی حکام کے پاس ان حملوں کی پہلے سے بہت معلومات تھیں مگر انہوں نے اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔واضح رہےکہ 11 ستمبر 2001 میں پیش آنے والے سانحہ نائن الیون میں تقریباً 3 ہزار افراد جان سے گئے جب کہ القاعدہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔



