تلنگانہ کی خبریں

لاک ڈاؤن کی افواہوں سے ہزاروں زرعی مزدور آبائی مقام واپس

مزدور

فصلوں کی نگہداشت میں کسانوں کو دشواریوں کا سامنا، 30 ہزار سے زائد ورکرس پڑوسی ریاستوں کو روانہ

تلنگانہ: (اردودنیا.اِن)تلنگانہ میں پھر ایک مرتبہ لاک ڈاؤن کی افواہوں کے سبب کئی اضلاع میں کام کرنے والے ہزاروں زرعی مزدور اپنے آبائی مقامات کو واپس ہوچکے ہیں۔ حکام اور کسانوں کی جانب سے تیقن کے باوجود زرعی مزدور کھیتوں میں کام کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا کیسس میں اضافہ کے پیش نظر پھر ایک مرتبہ لاک ڈاؤن کے نفاذ کا اندیشہ پایا جاتا ہے ۔

مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں زرعی لیبرس کی واپسی کے نتیجہ میں کتہ گوڑم اور دیگر اضلاع میں کسانوں کو فصلوں کی نگہداشت کے سلسلہ میں دشواریوں کا سامنا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ دریائے گوداوری کے دونوں جانب کسانوں نے سرخ مرچ کی مختلف اقسام کی کاش کی تھی جس کی بین الاقوامی مارکٹ میں کافی مانگ ہے۔ فی ایکر 40 تا 45 کنٹل کی پیداوار ہوتی ہے اور کسانوں کو 75 تا ایک لاکھ روپئے کی فی ایکر سرمایہ کاری کرنی ہوتی ہے۔

مہاراشٹرا ، چھتیس گڑھ اور اڈیشہ سے کسانوں کو سستا زرعی لیبر بآسانی حاصل ہوجاتا ہے ۔ موجودہ صورتحال میں کسانوں کو اندیشہ ہے کہ نہ صرف فصلوں کو نقصان ہوگا بلکہ بین الاقوامی مارکٹ میں توقع کے مطابق قیمت نہیں آئے گی۔ ایک اندازہ کے مطابق کورونا کیسس میں اضافہ کے بعد سے 15000 تا 30,000 زرعی مزدور اپنی آبائی ریاستوں کو واپس ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں وہ پھر ایک مرتبہ پیدل اپنے مقامات تک جانے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ موجودہ سیزن میں زرعی مزدوروں کو روزگانہ 250 روپئے تک ادا کئے جاتے ہیں اور 60,000 سے زائد مائیگرینٹ لیبر تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ زرعی مزدور اگر کسی مسلمہ ادارہ یا ذمہ دار شخص کے ذریعہ پہنچے ہیں تو ان کا بآسانی پتہ چلایا جاسکتا ہے لیکن زیادہ تر مزدور غیر منظم شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کے نتیجہ میں کسانوں کو مزدوروں کا پتہ چلانے اور ان کی جگہ دوسرے مزدوروں کو کام پر لگانے میں دشوار کا سامنا ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button