یو این اور این جی اوز کے کارکنوں کی جاسوسی کے الزام میں گرفتاری
جینوا،13اکتوبر(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)
اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیوں نے اس امر پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ان کے سٹاف میں شامل کارکنوں کو یمن میں بڑی تعداد میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کا یہ مشترکہ بیان ہفتے کے روز یمنی حوثیوں کی طرف اپنے کارکنوں کی گرفتار اور ان کے خلاف انضباطی کارروائیوں یا مقدمات کے چلائے جانے پر کیا گیا ہے۔اس سے پہلے اقوام متحدہ کے کارکنوں اور ایجنسیوں کو غزہ میں کام کرنے پر اسرائیل ہراساں کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کے ادارے انروا کیخلاف قانون سازی شروع کر رکھی ہے اور اسے دہشت گرد قرار دینے کا کہہ چکا ہے۔
ادھر سلامتی کونسل میں اسرائیلی سفیر سیکرٹری جنرل کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی کی دھمکی دے چکے ہیں۔اس بارے میں اقوام متحدہ اور ان کے ذیلی اداروں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ اب یمنی حوثیوں کے حوالے سے بھی اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کا اسی بارے میں بیان سامنے آگیا ہے اور اپنے کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے ان اداروں کے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے رکھا ہے۔ گرفتار کیے گئے کارکنوں کا تعلق مختلف عالمی اداروں اور انسانی حقوق کے اداروں سے ہے۔
یمنی حوثیوں نے ان میں سے کئی کو ماہ جون سے گرفتار کر رکھا ہے۔ ان پر الزام عائد ہے کہ یہ امریکہ اور اسرائیل کے لیے جاسوسی کرتے ہیں۔ تاہم اقوام متحدہ کی طرف سے الزامات کی تردید کی جاتی ہے۔اس بارے میں اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں اور این جی اوز کے اعلی عہدے داروں کے دستخطوں سے مشترکہ بیان جاری کیا گیا ہے۔ تاہم حوثی حکام نے اس بارے میں اپنا کوئی موقف ظاہر نہیں کیا ہے۔
اس مشترکہ بیان پر اقوام متحدہ عالمی ادارہ صحت کے سربراہم یونیسکو کے سربراہ آڈری آذولے، انسانی حقوق کے چیف وولکر ترک وغیرہ کے دستخط بھی شامل ہیں۔خیال رہے اس سے قبل بھی یمنی خانہ جنگی کے دوران ان حوثیوں نے بے شمار افراد کو گرفتار اور اغوا کیا تھا ان میں انسانی حقوق کے ادروں کے کارکن بھی شامل تھے اور اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے کارکن بھی۔