گستاخ پجاری یتی نرسمہانند کی گمشدگی کا مبینہ دعویٰ،حمایت میں36 برادریوں کی پنچایت
غازی آباد، 13اکتوبر (اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)
غازی آباد کے ڈاسنا مندر کے پجاری یتی نرسمہانند کے گستاخانہ کو لے کر اتوار کوبھی ماحول گرم ہوگیا۔ اس وجہ سے آج ڈاسنا مندر میں 36 برادریوں کی پنچایت بلائی گئی ہے۔ تاہم مندر انتظامیہ کی جانب سے پولیس سے اس کے لیے اجازت طلب کی گئی تھی ؛لیکن پولیس نے اجازت دینے سے انکار کردیاتھا۔ جس کی وجہ سے مندر کے اطراف کے علاقے میں دفعہ 163 نافذ کر دی گئی ہے۔تاہم اس کے بعد بھی یتی نرسمہانند کے حق میں مہاپنچایت کے لیے بھیڑ پہنچ گئی ہے۔
ایسے میں پولیس نے مندر کے مین گیٹ کو تالا لگا دیا ہے۔ بی جے پی ایم ایل اے نند کشور گرجر بھی اسی وجہ سے سڑک پر ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں۔ 4 اکتوبر کی رات مندر پر مبینہ حملے اور مہامنڈلیشور یتی نرسمہانند گری کے مبینہ لاپتہ ہونے کے سلسلے میں 36 برادریوں کی یہ پنچایت بلائی گئی ہے۔ مندر کے اردگرد بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ لونی سے بی جے پی ایم ایل اے نند کشور گرجر بھی پنچایت میں شرکت کے لیے پہنچے تھے۔
بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے بھی نرسمہانند کے متنازعہ بیان پر اعتراض ظاہر کیا تھا اور کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اپنے بیان میں مایاوتی نے کہا تھا کہ ان کے ایک بیان سے بدامنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے۔مایاوتی نے الزام لگایا تھا کہ پولیس نے مظاہرین کیخلاف کارروائی کی ہے؛ لیکن بیان دینے والے مہنت کیخلاف نہیں۔ ایسے میں انہوں نے قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔