اسرائیل کی نیشنل سکیورٹی کونسل نے اپنے شہریوں کو سری لنکا سے فوری طور پر نکلنے کی ہدایت کر دی ہے۔ یہ ہدایت بدھ کی روز کی گئی تاکہ سری لنکا میں اسرائیلی سیاحوں پر حملوں کے خطرے سے متعلق اطلاعات کے بعد اسرائیلی شہریوں کو محفوظ رکھا جا سکے؟نیشنل سکیورٹی کی طرف سے اپنے سری لنکا میں موجود شہریوں کو یہ الرٹ اس لیے جاری کیا گیا ہے کہ وہ خود کو سیاحتی علاقوں اور سمندر کناروں سے دہشت گردی کے خطرے کی وجہ سے دور کر لیں۔ خصوصاً سری لنکا کے خلیج اروگم کے ساحلی علاقے اور جنوبی و مغربی سری لنکا میں زیادہ احتیاط کریں اور ان علاقوں کو چھوڑ دیں۔
واضح رہے اسرائیل کی غزہ میں جاری ایک سال سے زائد عرصے سے جنگ کے نتیجے میں اسرائیلی شہری امریکہ و یورپ سمیت سخت مشکلات میں گھر گئے تھے اور متعلقہ ملکوں کو ان کی سیکورٹی کے لیے اضافی انتظامات پر اضافی اخراجات بھی برداشت کرنا پڑ رہے تھے۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ لبنان پر اسرائیل کے زمینی حملے کے بعد اسرائیل نے اپنے شہریوں کے لیے جنوبی ایشیا کے ایک ملک میں اس طرح کا تھریٹ الرٹ جاری کیا ہے۔ادھر اسرائیل کے اندر بھی حزب اللہ کی طرف سے آئے روز ہونے والے حملوں کے بعد اسرائیلی شہریوں میں غیر معمولی خوف ہے۔
خصوصاً وزیراعظم نیتن یاہو کی ان میزائل حملوں کے دوران بھاگتے ہوئے سامنے آنے کی فوٹیج نے اسرائیلی شہریوں کو مزید خوفزدہ کر دیا ہے۔خیال رہے سائرن بجنے اور میزائل حملے ہونے کے نتیجے میں نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوو گیلنٹ بھی زیر زمین پناہ گاہوں میں چھپنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ جبکہ سائرن بجتے ہی عام شہریوں کو بھی پناہ گاہوں کی تلاش کے لیے دوڑ لگانا پڑتی ہے۔تاہم اسرائیل کی نیشنل سیکیورٹی کونسل نے سری لنکا میں اپنے شہریوں کے لیے جاری کیے گئے اس الرٹ کے ساتھ کوئی متعین معلومات نہیں دی ہیں کہ انہیں کس قسم کے اور کس کی طرف سے ایسے خطرات ہو سکتے ہیں۔
اسرائیل کی سیکیورٹی اسٹبلش مین کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ سری لنکا کے حکام کے ساتھ اس سلسلے میں پوری طرح رابطے میں ہیں۔ تاکہ سری لنکا میں موجود اپنے شہریوں کو محفوظ رکھنے میں مؤثر اقدامات ممکن بنا سکیں۔کولمبو میں پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی انتظامات کو پہلے سے زیادہ مؤثر بنا دیا گیا ہے اور متعلقہ سیکیورٹی حکام اس سلسلے میں متحرک ہو چکے ہیں۔
خیال رہے رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران 20515 اسرائیلی سری لنکا میں سیاحت کے لیے آئے ہیں۔ جبکہ مجموعی طور پر اس دورانیے میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد 15 لاکھ کی تعداد میں ہے۔ خدشہ ہے کہ آئندہ دنوں اسرائیل کو اپنے شہریوں کے لیے فکر مندی میں اضافے کا سامنا ہوگا۔