

ویب ڈٰیسک
امریکہ کی سربراہی میں اتحادی افواج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عراقی فوج کے زیرِ استعمال ایک بیس کو راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا ہے جہاں غیر ملکی فوجی بھی موجود تھے۔ترجمان کرنل وین مروٹو نے بتایا کہ بدھ کو عین الاسد ایئربیس پر 10 راکٹ فائر کیے گئے۔ تاہم حملے میں فوری طور پر ہلاکتوں یا نقصان کے بارے میں پتا نہیں چل سکا۔یہ وہی ایئر بیس جسے گزشتہ برس ایران نے امریکی حملے میں جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے ردِعمل میں نشانہ بنایا تھا۔
Initial report: 10 IDF rockets targeted an Iraqi military base, Al Asad Airbase, hosting Coalition troops, on March 03, 2021 at approx 7:20 a.m. (Iraqi time). Iraqi SF are leading the response & investigation. Further information will be released as it becomes available.
— OIR Spokesperson (@OIRSpox) March 3, 2021
ایرانی حملے کے وقت مذکورہ ایئربیس پر امریکی فوجی اہلکار موجود تھے جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اہلکاروں کو ذہنی چوٹیں آئیں تھیں۔حالیہ چند ہفتوں کے دوران عراق اور شام میں اتحادی افواج اور ایران نواز گروہوں کے درمیان راکٹوں کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔
دو ہفتے قبل ہی شمالی عراق میں ایک بیس پر راکٹ داغے گئے تھے جس کے نتیجے میں امریکی فوج کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک سویلین کنٹریکٹر زخمی ہو گیا تھا۔اس حملے کے جواب میں امریکی فوج نے ڈرون طیاروں کی مدد سے شام کی سرحد کے قریب ایران نواز ملیشیاء کتائب حزب اللہ کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔پچھلے مہینے سے عراق میں یہ دوسرا راکٹ حملہ ہے۔ خاص طور پر ، پوپ فرانسس کے جنگ زدہ ملک کا دورہ کرنے والے دو دن قبل ہوا ہے۔



