بین الاقوامی خبریں

پیغمبر اسلام کے خاکے دکھانے والے ٹیچر کا قتل: مقدمہ شروع

پیٹی اپنی کلاس کے طلباء کو اظہار رائے کی آزادی کے طور پر طنزیہ میگزین’’ شارلی ایبدو‘‘ کے کارٹون بتائے تھے

پیرس ،5نومبر (ایجنسیز) ٹیچر سیموئیل پیٹی کے قتل میں آٹھ بالغ افراد کے خلاف ان کے مبینہ کردار کے باعث مقدمے کی سماعت ہو رہی ہے۔ چونکہ پولیس نے قاتل کو ہلاک کر دیا تھا،اس لیے مقدمہ قتل کے بارے میں کم اور اس کے اسباب و حالات کے بارے میں زیادہ ہے۔چار سال قبل، فرانس میں تاریخ کے ٹیچر سیموئیل پیٹی کے قتل نے پورے فرانس اور بیرون ملک صدمے کی لہر دوڑا دی تھی۔سولہ اکتوبر 2020 کی جمعے کی سہ پہر کو ایک 18 سالہ چیچن نژاد نوجوان عبد اللہ انزوروف نے پیرس کے شمال مغربی مضافاتی علاقے میں اسکول کے سامنے 47 سالہ پیٹی کو چاقو مار کر اس کا سر قلم کر دیا تھا۔

 

اس کے چند ہی منٹوں بعد پولیس نے انزوروف کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ لہٰذا مقدمے کی سماعت قتل کے بارے میں کم ہے اور اس کے اسباب وحالات کے بارے میں زیادہ ہے۔پیٹی نے آزادی اظہار اور رائے پر ہونے والی ایک معمول کی بحث کے دوران اپنی کلاس کے بچوں کو پیغبر اسلام کے متنازعہ خاکے دکھائے تھے، جو طنزیہ میگزین شارلی ایبدو نے شائع کیے تھے۔ جس کے بعد جنوری 2015 میں اس کے دفاتر پر دہشت گردانہ حملے ہوئے تھے جن میں 12 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔پیرس کی ایک عدالت نے، پچھلے سال پیٹی حملے کے سلسلے میں چھ نوجوانوں کو دو سال تک قید کی سزا سنائی تھی۔

 

ان میں سے چار کو معطل سزائیں سنائی گئیں۔ اب آٹھ بالغ افراد پر مقدمہ چل رہا ہے، جن میں سے دو پر قتل میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔دو افراد کو عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے، جس کا مطلب فرانس میں 30 سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنا ہے۔ ان پر شبہ ہے کہ وہ قاتل کے ساتھی ہیں، ہتھیار خریدنے میں اس کی مدد کی تھی یا اسے قتل کے مقام پر لے گئے تھے۔پانچ دیگر مرد اور ایک عورت پر دہشت گرد گروپ سے تعلق رکھنے کا الزام ہے اور انہیں 30 سال تک قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

 

ان پر شبہ ہے کہ انہوں نے حملہ آور کی حوصلہ افزائی کی، اس کے جرم کی تعریف کی یا نام نہاد اسلامک اسٹیٹ دہشت گرد گروپ میں شامل ہونے کے لیے شام جانے کا منصوبہ بنایا۔دوسرے گروپ میں اس لڑکی کے والد بھی شامل ہیں، جس کی عمر واردات کے وقت 13 سال تھی۔ لڑکی پر الزام ہے کہ اس نے اپنے والد سے جھوٹ بولا تھا کہ پیٹی نے متنازعہ خاکے دکھانے سے پہلے اسے اور دیگر مسلم طلبہ کو کلاس روم سے نکل جانے کو کہا تھا۔

 

بعد میں پتہ چلا کہ اس لڑکی نے کلاس میں شرکت ہی نہیں کی تھی اور مبینہ طور پر صرف ایک بہانہ تلاش کر رہی تھی کیونکہ اسے کسی دیگر وجہ سے اسکول سے عارضی طور پر نکال دیا گیا تھا۔فرانس کی سیکولرازم کی تعریف کے مطابق – چرچ اور ریاست الگ الگ ہیں- اسکول میں مذہبی علامات پر پابندی ہے۔ فرانس میں اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے اور 1881 سے توہین رسالت جرم نہیں ہے۔

 

لیکن وکیل ونسنٹ برینگارتھ اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ علامتی سزائیں موثر ہیں۔ برینگارتھ ایک ایسے شخص کی نمائندگی کرتے ہیں جنہیں فرانسیسی خفیہ اداروں نے اسلام پسند کارکن قرار دے رکھا ہے۔ مذکورہ شخص نے لڑکی کے والد کے ساتھ مل کر، پیٹی کے اسکول کے سامنے ایک ویڈیو بنائی اور الگ سے ایک اور ویڈیو جاری کی جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ پیٹی نے پیغمبر اسلام کی توہین کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button