اسرائیل کا نیا وزیر خارجہ جدعون ساعر کون ہے؟
جدعون ساعر کے بارے میں یہ بات معروف ہے کہ وہ دو ریاستی حل کا مخالف ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس، 6نومبر( ایجنسیز) اسرائیلی غاصب ریاست کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دائیں بازو کے سرگرم سیاست دان جدعون ساعر کو وزارت خارجہ کا قلم دان سونپ دیا ہے۔ اس سے قبل یسرائیل کاتز وزیر خارجہ کے منصب پر فائز تھا۔اسرائیلی فوجی ریڈیو کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کی برطرفی اور اس کی جگہ یسرائیل کاتز کے تقرر کے بعد جدعون ساعر وزارت خارجہ کا قلم دان سنبھالنے پر آمادہ ہو گیا۔ایک اسرائیلی سیاست دان جو 9 دسمبر 1966 کو تل ابیب میں پیدا ہوا۔
اس کے والدین نے 1965 میں ارجنٹائن سے اسرائیل ہجرت کی تھی۔ اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دینے کے بعد ساعر نے تل ابیب یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس اور پھر قانون کی تعلیم حاصل کی۔سال 1995 سے 1998 کے بیچ ساعر نے اٹارنی جنرل کے معاون کی حیثیت سے کام کیا۔ پھر 1999 اور 2001-2002 میں وہ نیتن یاہو کی حکومت میں وہ کابینہ کا سکریٹری مقرر ہوا۔
سال 2003 میں ساعر اسرائیلی پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہوا۔ اس نے لیکوڈ پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ کے طور پر کام کیا۔اسرائیل کی 17 ویں پارلیمنٹ میں (2006-2009) ساعر نے نائب اسپیکر کے فرائض انجام دیئے۔بعد ازاں وہ 2009 سے 2013 تک وزیر تعلیم رہا پھر اسی سال وزیر داخلہ بنا دیا گیا۔
نومبر 2014 میں وہ پارلیمنٹ سے رخصت ہو گیا۔اپریل 2017 میں ساعر نے سیاست میں واپسی کا اعلان کیا تاہم لیکوڈ پارٹی میں کوئی نمایاں ذمے داری پانے میں ناکام رہا۔ دسمبر 2020 میں اس نے لیکوڈ پارٹی چھوڑ کر اپنی علاحدہ جماعت بنانے کا اعلان کر دیا جس کا نام New Hope پارٹی تھا۔ سال 2021 کے انتخابات میں پارٹی نے چھ نشستیں جیت لیں اور ساعر وزیر انصاف بن گیا۔
اگست 2022 میں جدعون ساعر اور بینی گینٹز نے اپنی جماعتوں کو ضم کر کے ایک ساتھ نومبر کے انتخابات میں حصہ لینے کا عزم کیا۔ انھوں نے نئی جماعت کا نام ”ہاماہان ہامالاختی” رکھا۔تاہم اکتوبر 2023 میں غزہ کی جنگ چھڑنے کے بعد ساعر نے اسرائیل کی 37 ویں حکومت میں بطور وزیر حلف اٹھایا تاہم اسے کوئی قلم دان نہیں سونپا گیا تھا۔
جدعون ساعر کے بارے میں یہ بات معروف ہے کہ وہ دو ریاستی حل کا مخالف ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف واپسی غلطی ہو گی۔ وہ 2020 میں اپنے ایک بیان میں کہہ چکا ہے کہ ”دریائے اردن اور سمندر کے بیچ کوئی دوسری خود مختار ریاست نہیں ہو گی۔



