بین الاقوامی خبریں

ٹرمپ حکومت سے امیگریشن معاملے پر کیا توقع کی جا سکتی ہے؟

غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے 'متنازع' پالیسیوں کو نافذ کریں گے

واشنگٹن،7نومبر (ایجسنسیز) امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ووٹرز سے وعدہ کیا تھا کہ وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے روز سے ہی غیر قانونی تارکینِ وطن کی ملک سے بے دخلی کی ایک بڑی مہم شروع کریں گے۔انہوں نے ملک کی جنوبی سرحد پر غیرمعمولی اقدامات کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ تارکینِ وطن کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے ‘متنازع’ پالیسیوں کو نافذ کریں گے اور نئے آنے والوں کا امریکہ میں داخلہ بھی روکیں گے۔

ٹرمپ نے منگل اور بدھ کی شب فلوریڈا میں خطاب کے دوران بھی امیگریشن سے متعلق اپنی خیالات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم اپنی سرحدوں کو ٹھیک کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ واپس جائیں اور ہم انہیں واپس جانے دیں گے۔ انہیں قانونی طریقے سے امریکہ آنا ہو گا۔

امریکہ میں رہنے والے لاکھوں تارکینِ وطن کو دوبارہ انٹری کے مراحل سے گزارنے کے لیے کئی قانونی اور لاجسٹک چیلنجز درپیش ہیں۔واضح رہے کہ امریکہ میں دوبارہ داخلے کی سخت پالیسی کی وجہ سے بغیر دستاویز رہنے والے تارکینِ وطن کو قانونی عمل سے گزرنے اور اپنی باری کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔

ویزوں کی سالانہ حد بندی اور ملکوں کا ویزہ کوٹہ بھی ویزوں کے اجرا میں التوا کی بڑی وجہ ہے۔ ویزے کے حصول کے لیے بعض امیدوار ایک دہائی سے انتظار کر رہے ہیں۔ہیبریو امیگریشن ایڈ سوسائٹی کے سی ای او مارک ہیٹفیلڈ کہتے ہیں کہ یہ یقین موجود ہے کہ ایک قطار ہے اور لوگوں کو اس قطار میں کھڑا ہونا چاہیے۔ بعض اوقات کوئی قطار ہوتی ہی نہیں ہے۔

ویزوں کے اجرا سے متعلق اسی قسم کے مسئلے کا ذکر مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ نے بھی اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت مختلف ویزا کی اقسام ہیں اور ہر قسم کے ویزے کے لیے لوگوں کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے اور یہ بھی معلوم نہیں کہ لوگوں کو مستقل رہائش کے لیے کتنا انتظار کرنا پڑے گا۔

امریکہ میں 1996 میں ہونے والی امیگریشن ریفارمز اور امیگریشن ریسپانسبلٹی ایکٹ میں غیر قانونی طور پر امریکہ میں طویل قیام کرنے والوں کو ملک میں دوبارہ داخلے سے روکتا ہے۔اگر ایسے تارکینِ وطن جو دوبارہ اپنے ملک جا کر قانونی طریقے سے واپس امریکہ آنا چاہتے ہیں، ان کے لیے قانون یہ ہے کہ 180 دن سے زائد یا ایک سال سے کم عرصے تک امریکہ میں غیرقانونی قیام کرنے والوں کے امریکہ میں دوبارہ داخلے پر تین سال کی پابندی ہے۔

ایسے تارکینِ وطن جو غیرقانونی طور پر امریکہ میں ایک سال سے زائد سکونت اختیار کر چکے ہیں ان کے امریکہ میں دوبارہ داخلے پر دس سال کی پابندی ہے۔غیر قانونی قیام میں عام طور پر طویل قیام اور جانچ پڑتال کے بغیر امریکہ میں داخل ہونا بھی شامل ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ اپنی پہلی مدتِ صدارت کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں تارکینِ وطن کو ملک سے بے دخل کریں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button