بین الاقوامی خبریں

کون ٹرمپ کی واپسی سے خوش اور کون انہیں خطرہ سمجھتا ہے؟

وائٹ ہائوس میں واپسی پر دنیا بھر میں ملا جلا رد عمل دیکھا جا رہا ہے

نیویارک،7نومبر (ایجنسیز) امریکی ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ میں دوبارہ وائٹ ہائوس میں واپسی پر دنیا بھر میں ملا جلا رد عمل دیکھا جا رہا ہے۔بہت سے ممالک ٹرمپ کی واپسی کو خوش آئند قرار دیتے ہیں جب کہ کئی قوتیں ان کی واپسی سے پریشان بھی ہیں۔اگرچہ روس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاو?س واپسی کے بارے میں انہیں کوئی زیادہ حسن ظن نہیں لیکن اس کے باوجود وہ ان کے ساتھ ”کام” کریں گے۔روسی وزارت خارجہ نیایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ماسکو یوکرین میں اپنے تمام اہداف حاصل کرنے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

 

انہوں نیاس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ کی واپسی سے حالات تبدیل نہیں ہوں گے۔ وہ واشنگٹن کو اچھی طرح جانتے ہیں۔لیکن ان بیانات کے باوجود متعدد ماہرین اور مبصرین کا خیال ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین ٹرمپ کے انتخاب سے زیادہ مطمئن ہوں گے، جنہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ کریملن لیڈر کی ذہانت کی تعریف کی ہے۔انہوں نے حالیہ عرصے کے دوران بارہا اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ روس یوکرین جنگ کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

 

دریں اثناء ٹرمپ کے نائب جیمز ڈیوڈ وینس نے گذشتہ ستمبر میں ٹرمپ کے پاس موجود ”امن منصوبے” کے آثار کے بارے میں اشارہ کیا تھاانہوں نے نشاندہی کی کہ اس ابتدائی منصوبے کی دفعات میں یوکرین کے لیے روس کو یہ ضمانت فراہم کرنا ہے کہ وہ نیٹو یا دیگر اتحادوں میں شامل نہیں ہوگا۔انہوں نے وضاحت کی کہ اس ممکنہ منصوبے میں مشرقی یوکرین کے حوالے سے اس وقت روسی فوج کے زیر قبضہ یوکرین کی سرزمین کے اندر غیر فوجی زون کا قیام بھی شامل ہو سکتا ہے۔

 

لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس پر کون کنٹرول کرے گا۔ صرف اتنا کہا کہ موجودہ حد بندی لائن جوں کی توں رہے گی۔ جس کا مطلب ہے کہ یوکرین اپنی زمینیں دوبارہ حاصل نہیں کر سکتا جس پر روس نے فروری 2022ء میں اپنے حملے کے آغاز کے بعد سے قبضہ کر رکھا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ منصوبہ اگر حقیقت میں لاگو ہوتا ہے تو پوتین کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا اور جنگ کے خاتمے کے لیے ان کے کچھ مطالبات کو بھی پورا کرے گا۔دوسری طرف شاید یہ منصوبہ کیف کے عزائم اور امن کے مطالبات کے مطابق نہ ہو۔

 

پوتین کے علاوہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو جنہوں نے ٹرمپ کی جیت پر سب سے پہلے ٹرمپ کو مبارکباد دی تھی بھی ان کی واپسی پر خوش ہو سکتے ہیں۔اگرچہ دونوں افراد کے درمیان پہلے ذاتی اختلافات سامنے آچکے ہیں۔نئے امریکی صدر نے سب سے پہلے امریکی سفارت خانے کی یروشلم منتقلی کی منظوری دی۔ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے قبضے کی قانونی حیثیت کو بھی تسلیم کیا۔انہوں نے حال ہی میں غزہ کی پٹی اور لبنان کے حوالے سے مشرق وسطیٰ میں جنگوں کو روکنے کی ضرورت پر زور دینے کے باوجود ایک سے زیادہ مرتبہ تل ابیب کے لیے اپنی مکمل حمایت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

 

ٹرمپ کی آمد سے جن قوتوں کو پریشانی ہوسکتی ہے ان میں نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) ان میں سب سے آگے ہے۔سنہ 2018ء جب ٹرمپ امریکہ صدر تھے تو انہوں نے نیٹو چھوڑنے کا اشارہ دیا تھا۔ برسلز سربراہ اجلاس میں انہوں نے اتحادیوں کو اتحاد کے اندر دفاعی اخراجات بڑھانے پر مجبور کیا جا سکے۔اپنی حالیہ انتخابی مہم کے دوران ریپبلکن امیدوار نے کہا کہ وہ روس کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ کسی بھی ایسے ملک کے ساتھ ”جو چاہے” کرے جو نیٹو کو اپنے ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے۔

 

اس پر دفاعی اتحاد میں شامل یورپی ممالک ناراض ہوگئے تھے۔خیال رہے کہ 2024 میں نیٹو میں امریکی شراکت تقریباً 968 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ٹرمپ نے جنوری 2020ء میں پاسداران انقلاب میں قدس فورس کے کمانڈر اور ایران کی علاقائی اثر و رسوخ کی حکمت عملی کے معمار قاسم سلیمانی کے قتل کا حکم دیا تھا۔شاید اس انتخابات کے پہلے اثرات ایران میں ظاہر ہوئے۔ ایرانی کرنسی کی قدر میں کل بدھ کو اپنی ویلیو مزید کھو دی اور وہ سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button