حماس غزہ میں جنگ بندی کی راہ میں رکاوٹ ہے: امریکہ
نیتن یاہو کی حکومت شمال میں بھوک مسلط کرنے کی پالیسی نہیں رکھتی
واشنگٹن ،11نومبر ( ایجنسیز) امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی میں اسرائیل نہیں بلکہ حماس رکاوٹ ہے۔سلیوان نے ’سی بی ایس‘ چینل سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ امریکہ اس بات کا جائزہ لے گا کہ اسرائیل نے غزہ میں انسانی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کس حد تک پیش رفت کی ہے۔
صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے 13 اکتوبر کو وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور سیکرٹری دفاع لائیڈ آسٹن کے دستخط شدہ ایک خط میں اسرائیل کو مطلع کیا کہ اسے 30 دنوں کے اندر متعدد اقدامات کرنا ہوں گے یا امریکی فوجی امداد پر پابندیوں کے خطرے کا سامنا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا تھا کہ ’ہم اس ہفتے اپنے فیصلے کریں گے کہ انہوں نے کس قسم کی پیشرفت کی ہے۔ سلیوان نے سی بی ایس کو بتایا کہ وزیر دفاع لائیڈ آسٹن، وزیرخارجہ انٹونی بلنکن اور صدر اس بارے میں فیصلے کریں گے کہ ہم جواب میں کیا کرتے ہیں۔امریکی ڈیڈ لائن کی میعاد ختم ہونے کے چند ہی دن بعد عالمی غذائی تحفظ کے ماہرین نے کہا تھا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ شمالی غزہ کے علاقوں میں قحط پڑنے والا ہے؛
کیونکہ اسرائیل وہاں حماس کے ارکان پر اپنا فوجی حملہ جاری رکھے ہوئے ہے۔اسرائیل نے گذشتہ ماہ شمالی غزہ میں اپنے بڑے فوجی حملے کا آغاز کیا تھا۔ امریکہ نے کہا کہ وہ صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اسرائیل کے زمینی اقدامات سے یہ دیکھا جائے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت شمال میں بھوک مسلط کرنے کی پالیسی نہیں رکھتی۔



