بین الاقوامی خبریں

ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اپنے ابتدائی ایام میں کون سے فیصلے کریں گے؟

ان افراد کی معافی شامل ہے جن کو 6 جنوری 2021 کو کیپیٹول کی عمارت میں ہنگامہ آرائی کے الزام ہیں

واشنگٹن،11نومبر ( آئی این ایس انڈیا) امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیون کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز وائٹ ہاو?س میں موجودہ صدر جو بائیڈن کی منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران میں امریکا کی مقامی اور بیرونی پالیسیوں کی اولین ترجیحات زیر بحث آئیں گی۔یہ بات سولیون نے اتوار کے روز ”CBS” چینل پر ایک پروگرام میں دیے گئے انٹرویو میں تبائی۔ ان کا کہنا تھا کہ بائیڈن کا پہلا پیغام اقتدار کی پر امن منتقلی کی ضمانت ہے۔ اسی طرح وہ ٹرمپ کے ساتھ یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورت حال پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ادھر منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باور کرایا ہے کہ وہ پہلے روز کے سوا ہر گز کوئی ڈکٹیٹر نہیں ہوں گے۔ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اس پہلے روز وائٹ ہاؤس میں ان کے سامنے کرنے کے لیے بہت کچھ ہو گا۔ٹرمپ کی فہرست میں تارکین وطن کی اجتماعی بے دخلی، تعلیم کے حوالے سے بائیڈن انتظامیہ کی پالیسیوں کو ختم کرنا، وفاقی حکومت کے ڈھانچے کی از سر نو تشکیل جس میں ممکنہ طور پر ان ہزاروں وفاقی ملازمین کو برطرف کیا جا سکتا ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ خفیہ طور پر ٹرمپ کے خلاف کام کر رہے ہیں اور ان افراد کی معافی شامل ہے جن کو 6 جنوری 2021 کو کیپیٹول کی عمارت میں ہنگامہ آرائی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ منصب سنبھالنے کے بعد دو سیکنڈ کے اندر جیک اسمتھ کو برطرف کر دیں گے۔ اسمتھ اسپیشل پروسیکیوٹر ہیں جو ٹرمپ کیخلاف دو وفاقی مقدمات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ وہ پہلے ہی ان دونوں مقدمات کو ختم کرنے کے طریقہ کار کا جائزہ لے رہیں کیوں کہ وزارت انصاف کی پالیسی کے مطابق موجودہ صدور کے خلاف عدالتی کارروائی نہیں ہو سکتی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے 2017 میں جب صدر کا منصب سنبھالا تو اس وقت بھی ان کے پاس اقدامات کی ایک لمبی فہرست تھی۔ اس میں تجارتی سمجھوتوں پر فوری دوبارہ مذاکرات، تارکین وطن کی بے دخلی اور حکومتی بد عنوانی کے خاتمے کے لیے تدابیر کا وضع کرنا شامل تھا۔ تاہم یہ چیزیں ایک باری میں نہیں ہو سکیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button