نیویارک ،17 نومبر (ایجنسیز) بائیڈن انتظامیہ کی غزہ اور لبنان میں اسرائیلی مداخلتوں کو روکنے میں ناکامی کو بنیاد بناتے ہوئے 5 نومبر کو عرب امریکیوں نے ڈیموکریٹ پارٹی کے لیے روایتی حمایت کو ترک کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں ریکارڈ تعداد میں ووٹ ڈالے۔انتخابات سے چند دن قبل عوامی سروے سے بھی ظاہر ہوا تھا کہ عرب امریکیوں کے خیال میں کملا ہیرس کے بجائے ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں اسرائیل فلسطین تنازع کو کامیابی کے ساتھ حل کرنے کا زیادہ امکان ہے جبکہ وہ اسرائیلی حکومت کی زیادہ حمایت کرتے دکھائی دیے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ عرب امریکیوں کے خیال میں ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے لیے اتنے ہی اچھا ثابت ہوں گے جتنا کہ کملا ہیرس ہیں۔اب جب ٹرمپ نے اپنی کابینہ میں اہم عہدوں کے لیے شخصیات کا انتخاب کر لیا ہے، اس سے واضح ہوتا جا رہا ہے کہ احتجاجی ووٹ کا مشرق وسطیٰ اور فلسطینیوں پر کیا اثر ہو سکتا ہے، تاہم ان نامزدگیوں کی سینیٹ سے توثیق ہونا باقی ہے۔
اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ ٹرمپ کے انتخاب کے حوالے سے اپنے تبصرے میں کہا کہ اقوام متحدہ اور اسرائیل کے لیے نئے سفیر سمیت قومی سلامتی کے مشیر اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی کا اعلان، نئی ٹیم کی تشکیل کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہیں جو اسرائیل کی حامی ہو گی، اور ایران جیسے مخالفین کے مقابلے میں مضبوط ہو گا۔امریکی ٹیلی ویژن سی این این کی رپورٹ کے مطابق، موجودہ اور سابق امریکی حکام نے اس خیال کے خلاف احتیاط برتنے کا کہا کہ انٹیلی جنس کمیونٹی یکساں طور پر ٹرمپ کی مخالفت کر رہی ہے۔
18 ایجنسیاں جن میں ہزاروں کی تعداد میں تجزیہ کار اور آپریٹرز کام کرتے ہیں، ان میں بہت سے ایسے بھی ہیں جو نومنتخب صدر کے حامی ہیں اور ممکنہ طور پر ان کی واپسی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔فلوریڈا کے ریپبلکن سینیٹر روبیو سخت خارجہ پالیسی کے حامی رہے ہیں جبکہ ان کی تقرری صدر ٹرمپ کے اُن دعوں کے برعکس ہے جب انہوں نے مہم کے دوران اس خواہش کا اظہار کیا کہ دنیا کے پولیس مین کے طور پر امریکہ کا کردار نہیں دیکھنا چاہتے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے منشور میں’امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کے 20 بنیادی وعدوں‘ میں سے ایک ’اپنی فوج کو مضبوط اور جدید بنانے کے علاوہ دنیا کی سب سے مضبوط اور طاقتور فوج بنانا ہے۔دوسری طرف ٹرمپ نے اس بات کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا ہے کہ ’ہماری حکومت اس عظیم طاقت کو کم سے کم استعمال کرے، اور صرف واضح صورتوں میں استعمال کرے جہاں ہمارے قومی مفادات کو خطرہ لاحق ہو۔
سال 2023 میں واشنگٹن میں کوڈ پنک نامی سماجی گروپ کے ایک سوال پر مارک روبیو نے کہا تھا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کی حمایت نہیں کرتے،ان کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ اسرائیل حماس کے ایک ایک جز کو تباہ کرے۔ان سے جب روزانہ کی بنیاد پر ہلاک ہونے والے بچوں کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں یہ بہت ہی برا ہے اور اس کا ذمہ دار سو فیصد حماس ہی ہے۔
ایران کے معاملے پر بھی مارک روبیو نے کہا تھا کہ اسرائیل کو غیرمتناسب جواب دینے کا حق حاصل ہے۔تاہم بدھ کو اپنی ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو آگے بڑھانے کے لیے کام کریں گے۔