ایران نے جوہری ہتھیاروں کے قریب تر یورینیم ذخائرمیں نمایاں اضافہ کیا: اقوام متحدہ
ہم ایران کو جوابدہ بنانے کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں :امریکہ
جنیوا،21نومبر (ایجنسیز) اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی ایک خفیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی دباؤ کو نظر انداز کر کے افزودہ یورینیم کے ذخائر میں اضافہ کر لیا ہے اور وہ جوہری ہتھیار کے لیے درکار افزودگی سے بہت قریب ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی رپورٹ میں، جسے خبررساں ادارے نے دیکھا ہے، بتایا گیا ہے کہ 26 اکتوبر تک ایران کے پاس 182.3 کلوگرام یورینیم موجود تھا جس کی افزودگی کی سطح 60 فی صد ہے۔ یہ مقدار اگست کی آخری رپورٹ سے 17.6 کلوگرام زیادہ ہے۔جوہری ہتھیار کے لیے 90 فی صد تک افزودہ یورینیم درکار ہوتا ہے،جب کہ 60 فی صد افزدوگی کو جوہری سطح تک لے جانا تکنیکی طور پر زیادہ دور نہیں ہے۔
جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے (IAEA) کے مطابق نظریاتی طور پر 60 فی صد تک افزودہ 42 کلوگرام یورینیم کو مزید افزودہ کر کے ایک جوہری ہتھیار بنانا ممکن ہے۔یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ مہینوں میں غزہ جنگ کے پس منظر میں اسرائیل اور ایران نے ایک دوسرے کے خلاف میزائل حملے کیے ہیں۔ایران نے گزشتہ ہفتے آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی کے تہران کے دورے کے موقع پر اپنے یورینیم کے ذخائر کو 60 فی صد افزودگی تک نہ بڑھانے کی پیش کش کی تھی۔آئی اے ای اے نے کہا ہے کہ ایرانی عہدے داروں کے ساتھ مذاکرات میں یورینیم کے ذخائر کی 60 فی صد تک افزدوگی پر بات چیت ہوئی اور تکنیکی تصدیق کے پہلوو?ں پر غور کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گروسی کی ایران سے واپسی کے ایک روز کے بعد 16 نومبر کو معائنہ کاروں نے تصدیق کی کہ ایران نے اپنے زیر زمین جوہری مراکز فردو اور نطنز میں یورینیم کو 60 فی صد تک افزودہ کرنے کا عمل کو روکنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ایک سینئر مغربی سفارت کار نے، اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکہ کی حمایت کے ساتھ برطانیہ، فرانس اور جرمنی اس ہفتے آئی اے ای اے کے بورڈ کے اجلاس میں ایک قرارداد لا رہے ہیں جس میں ایران کی جانب سے تعاون میں عدم دلچسپی پر اسیسرزنش کی جائے گی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے منگل کو واشنگٹن میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم ایران کو جوابدہ بنانے کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی حکومت اعلیٰ سطح کے افزودہ یورینیم کے ذخائر جمع کر رہی ہے جس کا کوئی قابل اعتماد غیر فوجی مقصد نہیں ہے اور وہ آئی اے ای اے کے ساتھ مکمل تعاون بھی نہیں کر رہی۔خیال رہے کہ ایران نے ستمبر 2023 میں آئی اے ای اے کے کچھ سینئر معائنہ کاروں پر پابندی لگا دی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے جون میں اپنے جوہری مراکز کی نگرانی کے لیے نصب جو کیمرے اور آلات ہٹائے تھے، انہیں دوبارہ نصب کرنے میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔



