کیا دہلی کے رہائشی فضائی آلودگی کے باعث شہر چھوڑنے لگے؟
دہلی میں ایک ہفتہ تک آلودگی کی سطح شدید رہنے کے بعد ہوا کے معیار میں قدرے بہتری آئی ہے
نئی دہلی، 21 نومبر (ایجنسیز) دہلی میں ایک ہفتہ تک آلودگی کی سطح شدید رہنے کے بعد ہوا کے معیار میں قدرے بہتری آئی ہے ؛لیکن یہ اب بھی انتہائی خراب زمرے میں ہے۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے مطابق، جمعرات کی صبح 9 بجے دہلی میں اے کیو آئی 376 ریکارڈ کیا گیا۔ اس سب کے درمیان نومبر دہلی میں حالیہ برسوں میں سب سے آلودہ مہینہ رہا ہے۔ اس ہفتے اے کیو آئی 500 کے قریب پہنچ گیا، اس لیے بہت سے لوگ زہریلی ہوا سے بچنے کے لیے شہر سے باہر جا رہے ہیں۔
پچھلے کچھ دنوں میں ہوا کے معیار میں ہونے والی خرابی کے درمیان، جو شدید سے زیادہ کیٹیگری تک پہنچ گئی ہے، دہلی حکومت نے اپنے آدھے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کا حکم دیا اور پرائیویٹ سیکٹر سے بھی ایسا کرنے کی اپیل کی۔ حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے دارالحکومت میں گریڈڈ رسپانس ایکشن پلان کے فیز چوتھے کے تحت پابندیاں بھی لگائیں۔ جس کی وجہ سے بہت سے لوگ آلودگی سے بچنے کے لیے دہلی-این سی آر چھوڑ کر کچھ دنوں کے لیے باہر جا رہے ہیں۔
گڑگاؤں کی ایک ٹریول ٹیک کمپنی کے شریک بانی نے کہا کہ ممکنہ طور پر مانگ میں یہ اضافہ دہلی-این سی آر میں فلیکسی ورکنگ اور آن لائن اسکولنگ کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں آنے والے غیر ملکی سیاحوں پر اس کا اثر اتنا اہم نہیں ہے ؛کیوں کہ سفری منصوبے پہلے سے بنائے جاتے ہیں اور ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے آخری لمحات میں منصوبوں کو تبدیل کرنا مشکل ہوتا ہے۔
دہلی کا اے کیو آئی بہت سنگین ہے۔دہلی کی ہوا کا معیار اتوار کو شدید زمرے میں درج کیا گیا تھا، جس سے حکام کو گریڈڈ رسپانس ایکشن پلان 4 کے تحت اقدامات کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ پیر اور منگل کو ہوا کا معیار مزید خراب ہوا اور اے کیو آئی 450 سے زیادہ ہونے کے ساتھ انتہائی شدیدزمرے میں پہنچ گیا۔ بدھ تک اے کیو آئی میں معمولی بہتری تھی لیکن یہ شدید زمرے میں رہا۔ ان اقدامات میں تعمیرات اور مسماری کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی اور سکولوں میں آن لائن کلاسز شروع کرنا شامل ہیں۔



