یہودی آبادکاراتحادی یشیئل لیٹرامریکہ کے لیے سفیر نامزد
ڈاکٹر یشیئل لیٹر کی نامزدگی متفقہ طور پر کی گئی ہے۔ وہ اس سے قبل نیتن یاہو کے مشیر بھی رہ چکے ہیں
مقبوضہ بیت المقدس،25نومبر ( ایجنسیز) اسرائیل نے اتوار کے روز وزیر اعظم نیتن یاہو کے اتحادی کو امریکہ میں سفیر نامزد کیا ہے۔یہ غیر معمولی اسرائیلی نامزدگی نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے انتہائی سخت موقف رکھنے والے رجعت پسند مائیک ہکابی کو اسرائیل میں امریکی سفیر نامزد کیے جانے کے بعد سامنے ائی ہے۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی طرف سے امریکہ کے لیے بطور سفیر 65 سالہ ڈاکٹر یشیئل لیٹر کی نامزدگی متفقہ طور پر کی گئی ہے۔ وہ اس سے قبل نیتن یاہو کے مشیر بھی رہ چکے ہیں۔یہ بھی معلوم رہے کہ وہ بنیادی طور پر امریکی شہری ہی مگر آجکل مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم کی گئی ایک یہودی بستی میں آباد کیے گئے ہیں۔
وہ ری پبلکنز کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں۔ نیز یہودی بستیوں کے آبادکاروں کی نمائندگی کے لیے تشکیل دی ایک تنظیم ییشا کونسل کے رہنما ہیں۔۔یہ یہودی آباد کاروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے 1990 سے کام کر رہی ہے۔یشیئل لیٹر نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کے رکن بھی ہیں اور آجکل ایک تھینک ٹینک میں اسٹریٹجک ایڈوائزر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ان کا بیٹا موشے لیٹر ایک اسرائیلی فوجی کے طور پر پچھلے سال نومبر غزہ کی پٹی پر لڑتے ہوئے مارا گیا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ یشیئل لیٹر امریکہ میں بطور سفیر اپنی ذمہ داریاں ڈونلڈ ٹرمپ کے باضابطہ وائٹ ہاوس میں بطور صدر واپسی کے بعد سنبھالیں گے۔وہ اسرائیل کے موجودہ صدر اضحاک ہرزوگ کے بھائی مائیک ہرزوگ کی جگہ سفارتی ذمہ داریاں سنبھالیں گے جو 2021 سے امریکہ میں سفیر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔نئے نامزد کردہ اسرائیلی سفیر جوبائیڈن کے ایک شعلہ بیاں ناقدہیں۔انہوں نے رواں برس جنوری میں اپنے ایک انٹر ویو کے دوران جوبائیڈن کو امریکی پریزڈنٹ کے بجائے امریکی پریشر کانام دیا تھا۔



