بین الاقوامی خبریں

اپنے لیے کام تلاش کریں، انروا کااپنے فلسطینی ملازمین کو پیغام

کارکنوں کو متبادل ملازمتوں کی تلاش کے لیے 12 ماہ کی مدت بھی دے دی گئی ہے۔

جنیوا،27نومبر (ایجنسیز) اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں (UNRWA) سے اسرائیل نے تعلقات منقطع کے لیے ہیں۔جس کے بعد نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔’’انروا‘‘ نے اپنے فلسطینی ملازمین کے لیے حیران کن اقدام کا اعلان کردیا ہے۔انروا نے فلسطینی ملازمین کو اپنے لیے کام تلاش کرنے کا پیغام دے دیا ہے۔شیخ جراح میں صدارتی ہیڈکوارٹرز کے دفاتر میں فلسطینی کارکنوں کو باضابطہ اطلاع موصول ہوئی تھی جس میں انہیں بتایا گیا تھا کہ انروا نے اپنے صدارتی دفاتر کو یروشلم شہر سے باہر تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کارکنوں کو متبادل ملازمتوں کی تلاش کے لیے 12 ماہ کی مدت بھی دے دی گئی ہے۔ یہ مدت ختم ہونے کے بعد ان کے معاہدے ختم کر دیے جائیں گے اور ان کی ملازمتیں منسوخ کر دی جائیں گی۔شیخ جراح میں صدارتی دفاتر میں قانونی محکمہ بھی کام کرتا ہے جو ایجنسی کے قانونی کاموں کی نگرانی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انفارمیشن آفس ہے۔ اسی طرح ایڈوائزری باڈی کوآرڈینیشن آفس بھی ہے جو آپریشن کے پانچ شعبوں میں کام کرتے ہوئے پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے ممالک اور عطیہ دہندگان کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔

صدارتی دفاتر میں کمشنر جنرل کا دفتر، اس کا عملہ، اور دفتر سے منسلک ذیلی دفاتر بھی موجود ہیں۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ان دفاتر میں موجود غیر ملکی ملازمین اپنی ملازمتوں سے محروم نہیں ہوں گے بلکہ فلسطین سے باہر انہی ملازمتوں میں شامل ہو جائیں گے۔ زیادہ تر امکان ہے کہ یہ افراد اردن کے دارالحکومت عمان میں واقع انروا کے علاقائی دفاتر میں کام کرنا شروع کردیں گے۔ اس اچانک فیصلے میں شیخ جراح کے متعدد دفاتر شامل نہیں ہیں۔ ان دفاتر کا تعلق یروشلم اور مغربی کنارے کے دیگر علاقوں میں ایجنسی کے کام سے ہے۔واضح رہے یہ فیصلہ اسرائیل کی جانب سے ’’انروا‘‘ کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کرنے کے بارے میں باضابطہ طور پر مطلع کرنے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔

اسرائیل اور ’’انروا‘‘ کے درمیان تعلقات کافی عرصے سے کشیدہ ہیں لیکن غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ تیزی سے بگڑ گئے ہیں۔ اسرائیل نے ایجنسی کے بعض ملازمین پر حماس کے ساتھ تعاون کا الزام لگاتے ہوئے اقوام متحدہ کی ایجنسی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔گزشتہ ماہ کے کے آخر میں کنیسٹ نے بھاری اکثریت سے اسرائیل، مغربی کنارے اور غزہ کے اندر ’’انروا‘‘ کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے والے ایک مسودہ قانون کی منظوری دی تھی۔ اس اقدام سے پٹی میں انسانی حالات پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button