سرورق

سنبھل تشدد: فرضی خبریں شیئر کرنے سے گریز کریں:ایس پی سنبھل

اس تشدد میں اب تک 4 لوگوں کی پولیس کی فائرنگ سے ہوئی: مقتولین کے اہل خانہ کا دعویٰ

سنبھل ،27نومبر (ایجنسیز) تشدد کے بعد مغربی اتر پردیش کے سنبھل ضلع کے کچھ حصوں میں کشیدگی کا ماحول ہے۔ حکام کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کہا گیا ہے۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر انٹرنیٹ سروسز پر پابندی 24 گھنٹے کے لیے بڑھا دی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دوران تشدد میں ملوث ہونے پر دو خواتین سمیت 27 افراد کو منگل کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔ سنبھل کے ایس پی کے کے بشنوئی نے کہاکہ مختلف پولیس ٹیموں نے ویڈیو ریکارڈنگ، سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے 100 سے زیادہ لوگوں کی شناخت کی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

اس تشدد میں اب تک 4 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ مقتولین کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ موت پولیس کی فائرنگ سے ہوئی، جب کہ پولیس نے فائرنگ کی تردید کی ہے۔ایس پی نے کہا ہے کہ افواہوں کو روکنے کے لیے اگلے 24 گھنٹوں کے لیے انٹرنیٹ کی سہولت بند کر دی گئی ہے۔ شاہی مسجد کے علاقے میں دکانیں بند ہیں۔ لیکن ضلع کے دیگر حصوں میں بازاروں، اسکولوں اور کالجوں سمیت معمول کا کام دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ ایس پی نے کہاکہ انتظامیہ امن کی بحالی کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

ہم عوام سے تعاون کرنے کی اپیل کرتے ہیں اور افواہوں یا غلط معلومات کا شکار نہ ہوں۔حکام نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دیں اور سوشل میڈیا پر جعلی خبریں شیئر کرنے سے گریز کریں۔انتظامیہ نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ علاقے میں تشدد دوبارہ نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ حکام نے سنبھل میں باہر کے لوگوں اور عوامی نمائندوں کے داخلے پر 30 نومبر تک پابندی لگا دی ہے۔

قبل ازیں منگل کو سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے رکن پارلیمنٹ رام گوپال یادو نے سنبھل میں پتھراو? کے واقعہ پر انتظامیہ پر حملہ کیا اور الزام لگایا کہ انتظامیہ نے جان بوجھ کر بدامنی پیدا کی ہے۔یادو نے کہاکہ سنبھل میں انتظامیہ جو کچھ بھی کر رہی ہے وہ 100 فیصد غلط ہے۔انتظامیہ نے جان بوجھ کر وہاں بدامنی پیدا کی ہے۔ انصاف نہ ملے تو کوئی کیا کرے گا؟

اگر کسی کو انصاف نہیں ملا تو وہ کچھ کرے گا۔ انتظامیہ اجازت دے تو ہمارا وفد وہاں جا کر لوگوں سے ملے گا۔ انتظامیہ اپنی غلطیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پولیس کے خلاف ایف آئی آر درج کیوں نہیں ہو رہی؟ ہم سنبھل کا مسئلہ پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے… یہ ہماری ترجیح ہے اور ہم اسے نہیں چھوڑیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button