بھاجپا وزیرنے اذان سن کراپنی تقریر روکی تکمیل ا ذان کے بعد کلمہ بھی پڑھا، وزیرکیخلاف بیان بازی شروع
سنسکرت کے اشلوک پڑھنے کے بعد انہوں نے اسٹیج سے ہی کلمہ بھی پڑھ دیا۔
بھوپال ، 27 نومبر (ایجنسیز) ایک ایسے وقت میں جب’’ ایک ہیں تو سیف‘‘ ہیں اور’’ بٹیں گے تو کٹیں گے‘‘ جیسے نعرے پورے ملک کے سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہیں۔ وہیں، اتر پردیش کے سنبھل میں ہوئے تشدد کو لے کر سوشل میڈیا پر سیاسی بیان بازی تیز ہو رہی ہے، ایسے ماحول میں بی جے پی کی مدھیہ پردیش حکومت کے ایک وزیر کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ مدھیہ پردیش کے ڈاکٹر موہن یادو کی حکومت میں وزیر گوتم ٹیٹوال ایک پروگرام میں لوگوں سے خطاب کر رہے تھے۔
یہ پروگرام راج گڑھ کے ماؤ گاؤں میں ہو رہا تھا۔ جب ٹیٹوال لوگوں کے درمیان اپنے خیالات پیش کر رہے تھے تو انہوں نے اذان کی آواز سنی،آواز سننے کے فوراً بعد انہوں نے اپنا خطاب روک دیا۔ جس وقت یہ پروگرام ہو رہا تھا اس وقت شام کے 7 بج رہے تھے اور عشاء کی آذان ہو رہی تھی۔اذان پوری ہونے کے بعد وزیر ٹیٹوال نے کہاکہ وہ کہتے ہیں کہ اس سے ڈرو، اچھے کام کرو۔ سنسکرت کے اشلوک پڑھنے کے بعد انہوں نے اسٹیج سے ہی کلمہ بھی پڑھ دیا۔
وزیر ٹیٹوال نے مزید کہا کہ تمام زمین گوپال کی ہے۔ ہم اس دنیا میں آئے ہیں اس لیے سب کا احترام کریں، سب خوش رہیں، سب صحتمند رہیں، سب خیریت سے رہیں۔ یہ بات وہ بھی کہہ رہے ہیں اور ہم بھی کہہ رہے ہیں۔ بی جے پی حکومت کے وزیر نے کہا کہ سناتن کلچر ایک ایسا کلچر ہے جس میں سبھی شامل ہیں۔اب یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے اور اس کیخلاف کچھ آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔وزیر کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سنسکرت بچاؤ منچ اس کے خلاف احتجاج میں سامنے آیا ہے۔
فورم کے صدر چندر شیکھر تیواری نے کہا ہے کہ وزیر تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن ہم جیسے ہندوتوا لوگ ان کے لیے لڑ رہے ہیں۔ تیواری نے کہا کہ اگر کبھی کسی مندر میں آرتی ہو رہی ہوتی تو وزیر اپنے پروگرام کو روک کر آرتی میں شرکت کرنے کی کوشش نہیں کرتے ؛لیکن جب اذان سنی گئی تو انہوں نے خود وہاں کلمہ پڑھا اور اگر وہ چاہتے تو شاید نماز بھی پڑھ سکتے تھے۔
شیکھر تیواری نے کہا ہے کہ گوتم ٹیٹوال پارٹی کے سینئر لیڈر ہیں لیکن انہیں اس کے لئے ہندو سماج سے معافی مانگنی چاہئے اور غور کرنا چاہئے کہ کیا آپ نے صحیح کام کیا ہے اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ نے صحیح کام کیا ہے تو ہندو سماج کو کیا کرنا چاہئے۔، ہندو عوام بھی آپ کے متعلق سوچیں گے ۔



