غزہ میں فائر بندی کے حق میں ہوں، جنگ کے خاتمے پر آمادہ نہیں: نیتن یاہو
میں سمجھتا ہوں کہ حالات میں بہتری کی سمت بڑی تبدیلی آئی ہے،
مقبوضہ بیت المقدس،29نومبر (ایجنسیز) غزہ کی پٹی کے حوالے سے اہم پیش رفت میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ فائر بندی پر آمادہ ہو سکتے ہیں، جنگ کے خاتمے پر نہیں.نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ”میں سمجھتا ہوں کہ حالات میں بہتری کی سمت بڑی تبدیلی آئی ہے، اب میں یہ صرف نظریے کے طور پر نہیں کہہ رہا بلکہ اس کی بنیاد کئی وجوہات کا مجموعہ بھی ہے جس میں یحیی السنوار کا خاتمہ شامل ہے۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ”میں غزہ میں فائر بندی کے حق میں ہوں لیکن اس کا مطلب جنگ کا خاتمہ نہیں، میں اس کے لیے ابھی تیار نہیں ہوں کیوں کہ ہمیں حماس کا خاتمہ کرنا ضروری ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر کا کہنا ہے کہ ان کا ملک غزہ میں شہریوں کی زندگی پر کنٹرول کا ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ اسرائیل کو ایک با اعتماد فلسطینی شراکت دار کی ضرورت ہے جو غزہ میں اشتعال انگیزی اور قتل و غارت کی پالیسیوں سے دور ہو۔ادھر عالمی ادارہ صحت میں ہنگامی پروگرام کے ڈائریکٹر مائیک ریان نے لبنان کی طرز پر غزہ میں بھی فائر بندی کا
مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اب فوری طور پر غزہ کی طرف توجہ کی جانی چاہیے۔ ہمیں وہاں لڑائی روکنا چاہیے، صورت حال ابتر ہے، وہاں صحت کا نظام تقریبا مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ شعبہ صحت کے دلیر کارکنان اور بین الاقوامی طبی ٹیمیں اس نظام کو باقی رکھنے پر کام کر رہی ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات بہت اہم ہے کہ لبنان میں (فائر بندی کے حوالے سے) جو پیش رفت ہوئی ہے وہ جلد از جلد غزہ میں بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امدادی ایجنسی (انروا) کے چیف کمشنر فلپ لازارینی نے ”ایکس” پلیٹ فارم پر ایک بیان میں بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی کے شمال میں جاری اسرائیلی فوجی آپریشن کے نتیجے میں 1.3 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
انروا کے مطابق غزہ کی پٹی کے شمال میں باقی رہ جانے والے 65 سے 75 ہزار افراد کے زندہ رہنے کے حالات دھندلا رہے ہیں۔یاد رہے کہ سات اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس تنظیم کے حملے میں 1207 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت اسرائیلی شہریوں کی تھی۔ اس تعداد میں وہ قیدی بھی شامل ہیں جو غزہ کی پٹی میں دھاوے کے دوران میں قتل کر دیے گئے یا ہلاک ہو گئے۔
حماس کے حملے کے دوران میں اسرائیلی قصبوں کے اندر سے 251 افراد کو اغوا کیا گیا جن میں 97 افراد ابھی تک غزہ کی پٹی میں زیر حراست ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان میں 34 یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔ادھر سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے جوابی حملے شروع ہونے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں اب تک کم از کم 44,330 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں اکثریت شہریوں کی ہے۔



