بین الاقوامی خبریں

حکومت مخالف عسکریت پسند شام کے شہر حلب میں داخل، شدید لڑائی جاری

مسلح دھڑے حلب شہر میں داخل ہوگئے،سیرین آبزرویٹری کی تصدیق

دمشق؍دبئی،30نومبر ( ایجنسیز) شام میں حکومت مخالف عسکریت پسندوں نے غیرمعمولی طور پر حملہ کر کے حلب شہر تک ایک بار پھر رسائی حاصل کی ہے۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق مقامی عسکریت پسند اور اور اُن کے ترک اتحادی جنگجوؤں نے برق رفتاری سے حلب شہر پر حملہ کر کے ایران اور روس کی حمایت یافتہ شامی حکومت کی افواج کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی۔سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق یہ گزشتہ کئی برسوں میں ہونے والی جنگ کے دوران سب سے مہلک ترین لڑائی ہے جس میں 255 افراد مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر جنگجو تھے تاہم 24 شہری بھی شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر روسی فضائیہ کے حملوں میں مارے گئے۔

یہ لڑائی بدھ کو اُسی دن شروع جب اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے درمیان پڑوسی ملک لبنان میں عارضی جنگ بندی عمل میں آئی۔برطانیہ میں قائم شام کے آبزرویٹری گروپ کے مطابق جمعے تک عسکریت پسندوں اور ان کے اتحادیوں نے شمال میں 50 سے زائد قصبوں اور دیہاتوں کا کنٹرول سرکاری افواج سے چھین لیا تھا جو برسوں بعد حکومت کے سب سے بڑے نقصان میں سے ایک ہے۔جنگجو اس کے بعد حلب کے مغربی اضلاع میں داخل ہوئے، یہ شہر تقریباً 20 لاکھ افراد پر مشتمل ہے جو شام کا جنگ سے پہلے مینوفیکچرنگ کا مرکز تھا۔

جنگی مانیٹر نے کہ کہ حیات تحریر الشام اور اس کے اتحادی دھڑے، الحمدانیہ کے علاقے اور نیو حلب کے محلوں کے مضافات میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اس سے پہلے اس علاقے میں دو خودکش حملے کر کے راستہ بنایا گیا۔شام کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ القاعدہ کی سابق شامی شاخ کے زیر قیادت ایک اسلامی اتحاد ھیۃ تحریر الشام نے شہر میں طلبا کی رہائش گاہ پر گولہ باری کی جس میں چار شہری ہلاک ہو گئے۔آبزرویٹری گروپ کے مطابق شامی اور روسی جنگی طیاروں نے ادلب کے ارد گرد عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شدید فضائی حملے کیے ہیں۔

ایک شامی سیکورٹی اہلکار نے حساس معاملات پر بات کرنے کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ فوج کی کمک حلب پہنچ گئی ہے۔فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجیوں نے شہر پر حملے کو پسپا کر دیا ہے اور کچھ پوزیشنیں دوبارہ حاصل کر لی ہیں۔اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور نے کہا کہ پُرتشدد واقعات کی وجہ سے 14,000 سے زیادہ شہری جن میں سے تقریباً نصف بچے ہیں، بے گھر ہو چکے ہیں۔

سیرین آبزرویٹری نے اطلاع دی ہے کہ شام میں مسلح دھڑے حلب کے اندر نئے محلوں کو کنٹرول کرنے کے بعد حلب شہر اور اس کے مرکز تک پہنچ گئے ہیں جن میں الحمدانیہ، نیو حلب، صلاح الدین اور سیف الدولہ شامل ہیں۔ جبکہ ایک فوجی ذرائع نے رائیٹرز کو بتایا کہ شامی حکام نے حلب ایئرپورٹ کو بند کر دیا اور تمام پروازیں منسوخ کر دیں۔

معلومات کے مطابق تقریباً تین روز سے جاری جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں میں مسلح دھڑوں اور شامی فوج کے ارکان شامل ہیں جن کی تعداد سینکڑوں تک پہنچ گئی ہے۔النصرہ فرنٹ کی جانب سے شہر میں مکمل کرفیو کے اعلان کے بعد مسلح دھڑوں نے اس وقت کی تصاویر شائع کیں جب وہ حلب کے الشعار محلے میں داخل ہوئے تھے۔

انہوں نے حلب کے گورنر کے ہیڈکوارٹر اور فوجی ہسپتال میں داخل ہونے کے لمحے کو دستاویزی شکل دی۔اس کے علاوہ مسلح دھڑے پولیس ہیڈ کوارٹر کی عمارت اور حلب شہر میں گورنر کے ہیڈ کوارٹر میں داخل ہو گئے۔تحریر الشام تنظیم جسے پہلے النصرہ فرنٹ کے نام سے جانا جاتا تھا کے اتحادی مسلح دھڑوں نے ایسی تصاویر شائع کیں جو ان کے بقول وسطی حلب کی ہیں۔حلب شہر کے مرکز اور گردونواح میں شامی فوج اور مسلح دھڑوں کے درمیان ابھی تک لڑائی جاری ہے۔

دھڑوں کا کہنا ہے کہ وہ حلب کے محلوں میں داخل ہوئے جبکہ شامی فوج نے تصدیق کی کہ اس نے حملے کا جواب دیا اور عسکریت پسندوں کو بھاری نقصان پہنچایا۔سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے اطلاع دی ہے کہ شام میں مسلح دھڑے حلب شہر کے الحمدانیہ، حلب الجدیدہ اور الادامیہ کے محلوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے اور دو کار بموں سے دوہرے خودکش حملے کرنے کے بعد ان پر حملہ کر دیا۔

معلومات کے مطابق دو روز سے جاری جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 255 ہو گئی ہے، جن میں مسلح دھڑوں کے 140 سے زائد اور شامی فوج کے تقریباً 90 شامل ہیں۔شام میں متحارب فریقوں کے درمیان مصالحت کے لیے روسی مرکز کے نائب سربراہ کے مطابق روسی فضائیہ نے گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران حلب اور ادلب گورنریوں میں غیر منظم مسلح دھڑوں کے کم از کم دو سو عسکریت پسندوں کوہلاک کیا ہے۔

روسی دفاع کے مطابق مسلح دھڑوں کو پسپا کرنے کا عمل اب بھی جاری ہے۔دوسری طرف شامی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ حلب اور ادلب گورنریوں پر بڑے حملے کا مقابلہ کر رہی ہے۔ شامی فوج نے مزید کہا کہ حلب اور ادلب پر حملے میں مسلح دھڑوں نے بھاری اور درمیانے درجے کے ہتھیاروں اور ڈرونز کا استعمال کیا

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی فوج نے حلب اور ادلب پر حملوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ان مسلح گروہوں کو بھاری نقصان پہنچایا اور درجنوں گاڑیاں اور ڈرون تباہ کر دیے۔شامی سکیورٹی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ شہر میں فوجی کمک پہنچ گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button