ماسکو،3 دسمبر (ایجنسیز) روس اور ایران نے باہم اتفاق کیا ہے کہ دونوں ملک شام کے صدر بشار الاسد کی غیر مشروط مدد جاری رکھیں گے۔ یہ اتفاق روس اور ایران کے صدور کے باہمی رابطے کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے شام میں پیدا صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور مشترکہ حکمت عملی اور اعلان پر اتفاق کیا۔ اس سے پہلے وزرائے خارجہ کی سطح پر بھی دونوں ملکوں کے درمیان شامی صورتحال کے بارے میں رابطے ہو چکے ہیں۔
کریملن کے ترجمان کے مطابق صدر پوتین اور صدر مسعود پیزشکیان کے درمیان فون پر رابطہ ہوا اور دونوں نے دو طرفہ دلچسپی کے امور کے علاوہ شام کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے شام کی جائز اور قانونی بشار الاسد حکومت کی غیر مشروط حمایت، شام میں آئین کی حکمرانی اور شام کی قومی خود مختاری کی حمایت کی حکمت عملی پر اتفاق کیا۔
روس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں ترکیہ سے بھی رابطہ کاری کی جائے گی اور اسے شام میں پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق باہمی مشاورت میں شامل کیا جائے گا۔صدر پوتین اور صدر مسعود پیزشکیان بشار الاسد کے اہم سرپرست اور حمایتی ہیں۔ دونوں کی بشار الاسد کے لیے غیر معمولی حمایت 2011 کی خانہ جنگی کے زمانے سے چلی آرہی ہے۔
کریملن کی طرف سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب بشار الاسد نے کہا کہ ان کے اتحادی ملک اپوزیشن کی اس جارحیت کے خلاف ان کی مدد کے لیے موجود ہوں گے۔خیال رہے کہا جا رہا ہے کہ اپوزیشن کے حلب پر حملوں کے بعد حلب شہر کا کنٹرول بشار حکومت کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے کہا بلاشبہ ہم بشار الاسد کی حمایت کو جاری رکھیں گے اور ہر سطح پر یہ مدد جاری رہے گی۔ ہم ساتھ ساتھ صورتحال کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ایران جس نے پچھلی خانہ جنگی میں ہزاروں جنگجو بشار الاسد کی مدد کے لیے شام بھیجے تھے۔ اب اس نے کہا ہے کہ وہ فوجی مشیران کو شام میں ہی رکھے گا۔