شام کے موجودہ حالات کے پیچھے بشار کا تہران پر انحصار ہے: وائٹ ہاؤس
شمال مغربی شام میں بشار حکومت کا سقوط یہ سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے عدم نفاذ کا نتیجہ ہے۔
واشنگٹن،7دسمبر (ایجنسیز) امریکا نے باور کرایا ہے کہ وہ شام کی صورت حال کا قریب سے جائزہ سے لے رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے آج ہفتے کے روزواضح کیا کہ واشنگٹن خطے کے ممالک کے ساتھ مستقل رابطے میں ہے۔امریکا کا یہ موقف گذشتہ دنوں کے دوران میں تحریر الشام تنظیم اور اس کے اتحادی گروپوں کے شام کے بڑے شہروں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق شامی صدر بشار الاسد کی جانب سے سلامتی کونسل کی قرار داد 2254 میں مذکور سیاسی عمل میں شرکت سے مسلسل انکار اور روس اور ایران پر انحصار نے موجودہ حالات کو جنم دیا ہے۔
مزید یہ کہ شمال مغربی شام میں بشار حکومت کا سقوط یہ سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے عدم نفاذ کا نتیجہ ہے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا ایک سنجیدہ اور قابل اعتماد سیاسی عمل کے ذریعے کشیدگی کم کرنے اور شہریوں کے تحفظ پر زور دیتا ہے، جس سے یہ خانہ جنگی ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ممکن ہو۔وائٹ ہاؤس نے اپنے موقف کا اختتام اس بات پر کیا کہ امریکی صدر جو بائیڈن یہ واضح کر چکے ہیں کہ شام میں داعش کی دوبارہ عدم واپسی یقینی بنانے کے لیے امریکی فوج کے افراد کی موجودگی ضروری ہے۔
دوسری جانب ماسکو میں کرملن ہاو?س کے قریبی ذریعے نے واضح کیا ہے کہ روس کے پاس دمشق حکومت بچانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے… جب تک شامی فوج کا اپنے ٹھکانوں سے انخلا جاری ہے، ہم کسی منصوبے کی توقع نہیں کرتے ہیں۔ یہ بات بلومبرگ نیٹ ورک نے بتائی۔ادھر کئی ایرانی اور علاقائی ذمے داروں کے مطابق ایران نے کل جمعے کے روز سے شام میں اپنی القدس فورس (ایرانی پاسداران انقلاب کی تنظیم) کی سینئر قیادت کے علاوہ دیگر عناصر اور شہریوں کو نکال لیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بشار کو دو مرکزی اتحادیوں (ایران اور روس) کی جانب سے بنا فعال سپورٹ کے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔معلوم رہے کہ ایک اعلی سطح کے ایرانی ذمے دار نے اس کے برعکس روایت پیش کی ہے۔ ذمے دار نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے دمشق کی سپورٹ کے لیے مزید فوجی مشیران کو بھیجا ہے۔



