قومی خبریں

بہارمیں بھی بیف پر سیاست: این ڈی اتحادی باہم دست و گریباں

آسام کی ہمنتا بسوا سرما حکومت نے ریاست کے ہوٹلوں میں گائے کے گوشت پر پابندی لگا دی ہے۔

پٹنہ ،7دسمبر( ایجنسیز ) آسام کی ہمنتا بسوا سرما حکومت نے ریاست کے ہوٹلوں میں گائے کے گوشت پر پابندی لگا دی ہے۔ اب اس کی تقلید میں کیا بہار میںبھی گائے کے گوشت پر پابندی لگائی جاسکتی ہے؟ یہ سوال اس لیے ہے کہ بی جے پی جو کہ نتیش حکومت کا حصہ ہے، نے آسام کی تقلید میں ہوٹلوں میں بیف پر پابندی کا مطالبہ کردیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے آسام حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس معاملے پر این ڈی اے میں تناؤ بڑھ گیا ہے۔ جے ڈی یو اور بی جے پی دونوں پارٹیاں آمنے سامنے نظر آرہی ہیں۔

بی جے پی ایم ایل اے ہری بھوشن ٹھاکر نے بہار میں گائے کے گوشت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے آسام حکومت کے فیصلے کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آسام میں ہندوؤں کے عقیدے کا احترام کیا گیا ہے۔بہار کے کروڑوں لوگ بھی ’’گئو ماتا‘‘ پرآستھا رکھتے ہیں۔ اس کا ذبح کرکے گوشت حاصل کرنا کسی طور بھی جائز نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جانوروں کی اسمگلنگ ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بہار میں جو بھی گائے کا گوشت بیچتا ہے اسے سخت ترین سزا ملنی چاہئے۔لیکن بہار میں کھلے عام فروخت ہوتا ہے، کسی کے عقیدے سے کھلواڑ کا کسی کو حق نہیں، اس سے معاشرے میں کشیدگی پھیلے گی۔

بہار میں اس سلسلے میں ایکٹ ہے، لیکن اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔ جبکہ جے ڈی یو کے ایم ایل سی خالد انور نے کہا کہ آسام کے سی ایم ہمنتا بسوا سرما کی سوچ منفی ہے۔ بیف پر پابندی این ڈی اے کا ایجنڈا نہیں ہے۔ آسام میں مسلمان اور عیسائی ہیں جن کی خوراک ایک جیسی ہے۔ اب وہ لوگ کیا کریں گے؟ آسام حکومت کا فیصلہ درست نہیں ہے۔ بہار میں گائے کے گوشت پر پابندی نہیں ہوگی۔

خالد انور نے کہا کہ بہار بی جے پی میں کچھ ایسے لوگ ہیں جن کی سوچ آسام کے وزیراعلیٰ جیسی ہے۔ وہی لوگ یہاں پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہم 19 سال سے بہار میں حکومت چلا رہے ہیں۔ ہم نے کبھی ایسی باتوں پر توجہ نہیں دی۔ کیا ہمانتا سرکار گوا، منی پور اور اروناچل میں بھی اس پر پابندی لگا سکتی ہے؟

متعلقہ خبریں

Back to top button