بین الاقوامی خبریں

امریکہ شام میں شراکت داروں کے ہمراہ کام کرے گا: بائیڈن

بائیڈن نے کہا کہ امریکہ تبدیلی کے اس دور میں شام کے ہمسایہ ممالک کا ساتھ دے گا

واشنگٹن، 9دسمبر (ایجنسیز) باغیوں کے شامی صدر بشار الاسد کا تختہ الٹ دینے کے بعد اتوار کو امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ شام میں اپنے شراکت داروں اور متعلقین کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ اس موقع سے فائدہ اٹھانے اور خطرے سے نمٹنے میں مدد ملے۔وائٹ ہاؤس میں ایک تبصرے میں بائیڈن نے کہا کہ امریکہ تبدیلی کے اس دور میں شام کے ہمسایہ ممالک کا ساتھ دے گا اور باغی گروپوں کے قول و فعل کا جائزہ لے گا۔بائیڈن نے کہا کہ امریکہ کو باضابطہ طور پر الاسد کے پتہ نشان معلوم نہیں لیکن ہم نے یہ اطلاعات نوٹ کیں کہ وہ ماسکو فرار ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الاسد سے ”جواب طلبی ہونی چاہیے۔بائیڈن نے کہا کہ شام خطرے اور غیر یقینی کے دور سے گذر رہا ہے اور کئی برسوں میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ نہ روس، نہ ایران اور نہ ہی حزب اللہ تنظیم کا شام میں کوئی اثر و رسوخ ہے۔برسوں سے الاسد کے اصل حمایتی ایران، حزب اللہ اور روس رہے ہیں۔ لیکن گذشتہ ہفتے کے دوران ان تینوں کی حمایت ختم ہوگئی کیونکہ یہ تینوں آج اس وقت سے کہیں زیادہ کمزور ہیں جب میں نے عہدہ سنبھالا تھا۔” بائیڈن نے کہا جو 2021 میں صدر بنے تھے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی افواج نے اتوار کے روز شام میں دہشت گرد گروپ داعش کے مقامات اور کارندوں کو نشانہ بناتے ہوئے ایک درجن درستگی پر مبنی حملے کیے۔بائیڈن نے کہا، ”شام میں طویل عرصے سے مصائب کا شکار لوگوں کے لیے اپنے قابلِ فخر ملک کے بہتر مستقبل کی تعمیر کا ایک تاریخی موقع ہے۔

لیکن یہ خطرے اور غیر یقینی کا وقت بھی ہے۔بائیڈن نے مزید کہا، ”جیسا کہ ہم سب کی توجہ اس سوال کی طرف ہے کہ آگے کیا ہو گا تو اس کے لیے امریکہ شام میں اپنے شراکت داروں اور متعلقین کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ ان کو خطرے سے نمٹنے کے موقع سے فائدہ اٹھانے میں مدد ملے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button