کسانوں کی تحریک: سپریم کورٹ نے کی شمبھو بارڈر پر عرضی مسترد
سپریم کورٹ نے شمبھو بارڈر کھولنے کی عرضی کو مسترد کر دیا ہے۔
نئی دہلی،9دسمبر (ایجنسیز) سپریم کورٹ نے شمبھو بارڈر کھولنے کی عرضی کو مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں ایک عرضی پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے۔ اسی طرح کی درخواستیں بار بار دائر کی جارہی ہیں۔ عدالت نے سخت لہجے میں پوچھا کہ بار بار اسی طرح کی درخواستیں کیوں دائر کی جارہی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ وہ پہلے سے زیر التواء درخواستوں کی سماعت کرے گی۔
جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس منموہن کی بنچ سے کسانوں کو ہائی وے سے ہٹانے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک عرضی دائر کی گئی تھی۔سپریم کورٹ میں ایک پی آئی ایل دائر کی گئی تھی جس میں مرکزی، پنجاب اور ہریانہ حکومتوں کو شمبھو بارڈر سمیت ہائی وے کو کھولنے کی ہدایات دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا کہ ہائی وے بند کرکے احتجاج کرنا عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ نیشنل ہائی وے ایکٹ اور بی این ایس کے تحت ایک جرم ہے۔ اس پر جسٹس سوریہ کانت نے سپریم کورٹ میں عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ مقدمہ تشہیر کے لیے کیا جا رہا ہے۔آپ کو بتا دیں کہ کسان فروری سے شمبھو بارڈر پر ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ پولس نے کسانوں کو سرحد پر روک دیا ہے تاکہ وہ دہلی جانے کے قابل نہ ہوں۔
کسانوں نے 2020 میں احتجاج کیا تھا۔ پھر دہلی میں بھی تشدد دیکھنے میں آیا۔ کسان لال قلعہ تک پہنچ چکے تھے۔ کسانوں کے احتجاج کے پیش نظر تین زرعی قوانین کو منسوخ کرنا پڑا۔ اتوار کو ایک بار پھر پولیس اور سیکورٹی فورسز کی ٹیم نے دہلی مارچ کو روک دیا۔دوسری طرف کسان لیڈر سرون سنگھ پنڈھر نے دہلی مارچ کو لے کر ہریانہ حکومت اور مرکز کو نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شمبھو بارڈر پر ایجی ٹیشن کے 302 دن مکمل ہو چکے ہیں۔ حکومت اس الجھن میں ہے کہ کسانوں کے معاملے میں کیا کرے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی پہنچنے کے کئی راستے ہیں۔ کسانوں کو دہلی کیوں نہیں جانے دیا جاتا؟ پنڈھر نے کہا کہ کسان کل مارچ نہیں کریں گے۔ اس سلسلے میں فیصلہ جگجیت سنگھ دلیوال سے ملاقات کے بعد کیا جائے گا۔



