تکلیف دہ مرض,وجع المفاصل اور جوڑوں کا درد
پیش کش: احمد احمد معین حبان بنگلور
انسانی جسم میں جوڑ وہ جگہ ہے جہاں دو ہڈیاں یا دو سے زیادہ ہڈیاں ملتی یا اکٹھی ہوتی ہیں۔ جوڑجسم میں ہڈیوں کے سِروں پر واقع ہوتے ہیں جو انسانی جسم کو متحرک رکھنے میں معاون ہوتے ہیں۔ ہاتھوں، پیروں، بازوؤں، انگلیوں، کہنی، کولھے، ریڑھ کی ہڈی اور گردن کے مہرے وغیرہ کی ہڈیاں اور ان سے منسلک ان کے جوڑ ہوتے ہیں۔ ہڈیوں کے جوڑ ہمارے جسمانی حرکات وسکنات کو فعال اور متحرک رکھنے کیلئے بہت ضروری ہیں۔ انسانی جسم میں دو ہڈیوں یا دو سے زائد ہڈیوں کے ملنے کی جگہ پر جوڑ کے ساتھ ایک کرکری نرم سی ہڈی کی تہ بھی ہوتی ہے اور حفاظتی ٹشوز بھی۔ ہڈیوں کے جوڑ کے سرے حفاظتی ٹشو سے ڈھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ جنہیں کارٹیلیج کہتے ہیں۔
کارٹیلیج سخت ربڑ کی طرح لچکدار مادہ کی طرح ہوتاہے یہ دو یا دو سے زیادہ ہڈیوں کے ملنے کی جگہ کو ایک حد تک موڑنے اور حرکت کرنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ کارٹیلیج یعنی حفاظتی ٹشوز ہڈیوں کو آپس میں رگڑ کھانے، ٹکرانے، گھسنے اور ایک دوسرے سے ٹکراکر زخمی ہونے سے بچاتے ہیں۔ جب یہ کارٹلیج کسی وجہ سے ٹوٹ جاتا ہے تو جوڑوں کے اندر کی ہڈیاں ایک دوسرے سے ملنے لگتی ہیں اور درد، سوزش اور تکلیف کاسبب بنتی ہیں۔ جسمانی جوڑ اگر کسی وجہ سے متا ثر ہوجائیں تواسے جوڑوں کا درد یا گٹھیاکی بیماری کہا جاتا ہے۔ چھوٹے جوڑوں کے درد کو نقرس اور بڑے جوڑوں کے درد کو گٹھیا کہتے ہیں۔ اس میں جوڑوں کی جھلیاں سخت ہوجاتی ہیں اور ان پر ورم آ جاتاہے یا جوڑ اکڑ جاتے اور منجمد ہوجاتے ہیں اور حرکت کم کرتے ہیں یا بالکل ہی بے حرکت ہوجاتے ہیں۔
وجوہات
جوڑوں کے درد کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں مثلاً جوڑوں کے درد کی ایک وجہ یورک ایسیڈ ہے۔ اس کے علاوہ کولیسٹرول اور سوڈیم اور پوٹا شیم کی زیادتی بھی جوڑوں کے درد کا سبب بنتی ہے اور ہڈی یا جوڑ پر چوٹ لگنا یا موٹاپا بھی جوڑوں کے درد کی وجہ ہوسکتاہے۔
سن رسیدگی
اس بیماری کے ہونے کی ایک وجہ تو بڑھتی عمر کے اثرات ہیں۔ کیونکہ چالیس سال کے بعد انسان عام طور پر اس بیماری کا زیادہ شکار ہوجاتا ہے۔ ہڈیوں کے جوڑوں کے حفاظتی ٹشوز عمر کے ساتھ کمزور پڑ جاتے ہیں اور ہڈیاں آپس میں ٹکرانے لگتی ہیں تو ان کو حرکت دینے میں تکلیف ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے جوڑوں پر ورم آجاتا ہے۔ یہ تکلیف رات میں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
موٹاپا
ان لوگوں میں بھی جوڑوں کی تکلیف ہو جاتی ہے جن کا وزن زیادہ ہو یا وہ موٹا پے کا شکار ہوں۔ بہ نسبت مردوں کے خواتین میں یہ مرض زیادہ عام ہوتا ہے۔ جسمانی وزن کا بوجھ ان کے جوڑوں پر ضرورت سے زیادہ پڑتا ہے۔ خاص طور پر ان کے جسم کے نچلے دھڑ یعنی گھٹنوں، کولہوں اور ٹخنوں پر پڑتا ہے۔ یہ بیماری آہستہ آہستہ بڑھتی ہے وزن کا بوجھ سہ کر یا بڑھتی عمر کے سبب یہ جوڑ انتہائی کمزور ہوجاتے ہیں تو جھڑنے لگتے ہیں۔
موروثیت
یہ بیماری موروثی بھی ہوسکتی ہے۔ اگر خاندان میں یہ بیماری کسی کو ہو تو وراثت یا جینیات کے طور پر خاندان کے دوسر ے افراد بھی اس بیماری کے خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔
غیر فعالیت
اگر انسان روزمرہ کی سرگرمیوں میں غیر فعال اور سست ہے، زیادہ وقت بیٹھنے یا لیٹنے میں گزارتا ہے یا اس کا کام زیادہ بیٹھ کر کرنے کا ہے۔ وہ ورزش بھی نہیں کرتا۔ چاق چوبند زندگی نہیں گزارتا ہے تو بھی اس بیماری کے چانسسز ایسے لوگوں کے لئے بڑھ جاتے ہیں۔
کمزوری
جوڑوں کی اس بیماری آسٹیو آرتھرائٹس کی ایک وجہ جسمانی کمزوری، یا غذائیت کی کمی بھی ہے کیونکہ ان کے سبب ہڈیاں اور جوڑ آہستہ آہستہ انتہائی کمزور ہوتے جاتے ہیں اور اپنی طاقت اور مضبوطی بھی کھونا شروع کردیتے ہیں اور کمزور ہو کر آہستہ آہستہ جھڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ بیماری عام طور پر گھٹوں، ٹخنوں اور کولھے کے جوڑوں کو متا ثر کرتی ہے۔ کیونکہ جسم کا زیادہ بوجھ ان ہی جوڑوں پر پڑتا ہے۔ کیونکہ کارٹلیج یعنی نرم کرکری ہڈی یا حفاظتی ٹشوز عمر کے سبب یا جسمانی کمزوری کے سبب گھس جاتے ہیں اور ہڈیا ں آپس میں ٹکرانے لگتی ہیں۔ اس لئے جسمانی حرکت، روزمرہ سرگرمیوں، یہاں تک کہ ا ٹھنے بیٹھنے اور چلنے میں شدید درد محسوس ہوتا ہے۔ جوڑ کے تکلیف دہ حصے پر صرف ہاتھ لگانے سے بھی درد محسوس ہوتا ہے اورصبح کے وقت جوڑ اکڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں انہیں حرکت دینا نہایت مشکل ہوتا ہے۔
| اردو دنیا واٹس ایپ گروپ https://chat.whatsapp.com/C6atlwNTZ9M9y5J2MFYNGx جوائن کرنے کے لئے لنک کلک کریں |
اقسام
جوڑوں کا درد انتہائی تکلیف دہ مرض ہے۔ اور ایک عام مرض ہے۔ اس کی وجہ سے معذوری بھی ہوسکتی ہے۔ اس کی مختلف اقسام ہیں تاہم جوڑوں میں سوزش اور ورم عام ہے۔ جسے انگریزی میں آرتھرائیٹس کہتے ہیں۔ دو طرح کا جوڑوں کا درد عام ہے ایک تو آسٹیو آرتھرائیٹس یعنی جوڑوں کا درد اور سوزش اور دوسرا رہیومیٹوائڈ آرتھرائیٹس جوڑوں کا منجمد ہوجانا یا غیر فعال اور بے حرکت ہوجانا۔ یہ بھی جوڑوں کا ایک مرض ہے جسم کے چھوٹے جوڑ جیسے ہاتھوں کی انگلیوں کے جوڑوں کے درد کی یہی قسم ہے۔
اس میں جوڑوں میں درد ہوتا ہے انگلیاں اکڑ جاتی ہیں اور ٹیڑھی میڑھی ہوجاتی اور مڑجاتی ہیں اور جوڑ وں میں سوجن اور ورم آجاتا ہے اور ان پر سُرخی بھی آجاتی ہے جوڑوں کے اکڑنے کی وجہ سے وہ بالکل بھی حرکت نہیں کرپاتے۔ یہاں تک کے اس مرض میں مبتلا انسان اپنا کام بھی نہیں کرپاتا، اپنے ہاتھ سے کھانا بھی نہیں کھا سکتا۔ اس مرض کی اہم وجہ مدافعتی نظام کی خرابی ہے۔ جوڑوں کے درد کی بیماری کی خاص علامات میں سوجن اور درد ہے۔ اس کے علاوہ جوڑوں کا کم متحرک ہونا اور جوڑوں کی کمزوری، پاتھ پیر اور بازوؤں کو پوری طرح حرکت نہ دے پانا، پیروں، بازؤوں اور ہاتھوں کی انگلیوں میں درد محسوس ہونا اور معمول کے مطابق حرکت نہ دے پانا اور دشواری محسوس کرنا اورجوڑ والے اعضاء کو معمولی حرکت دینے پر بھی شدید قسم کا درد محسوس ہونا۔اٹھنے، بیٹھنے، چلنے پھرنے، سیڑھیاں چڑھنے، ورزش کرنے میں اور روزمرہ کے کام کاج میں دشواری او ر تکلیف محسوس کرنا ہے۔
علاج
اس کے کئی علاج ہیں۔ زیادہ تر ادویات سے ہی علاج کی کوشش کی جاتی ہے اگر افاقہ نہ ہو تو اس کے بعد سرجری بھی کروائی جاسکتی ہے۔ورزش اور مساج سے بھی جوڑوں کے مرض میں افاقہ ہوتا ہے اور اچھی اور مناسب خوراک سے بھی جوڑوں کے درد میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کو زیادہ اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔وٹامنز، مچھلی کا تیل، سبز چائے اور ادرک کا استعمال بھی مفید ہے۔ طرز زندگی میں تبدیلی ضروری ہے۔
ورزش بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ یہ جوڑوں کو فعال اور متحرک کرنے کے لئے بہترین طریقہ علاج ہے۔ اس سے عضلات، پٹھے اور جوڑ مضبوط ہوتے ہیں۔ فزیو تھراپی بھی جوڑوں کے درد کا ایک علاج ہے۔ گرم پانی کی سکائی بھی جوڑوں کے درد میں آرام پہنچاتی ہے۔ جڑی بوٹیوں سے بھی جوڑوں کے درد کا علاج ممکن ہے۔چہل قدمی بھی جوڑوں کے درد کابہترین علاج ہے۔ کیونکہ چہل قدمی ایک آسان ورزش ہے اس سے جسم وارم اپ ہوتا ہے اور عضلات پٹھے اور جوڑ فعال اور مضبوط ہوتے ہیں۔ صبح سورج کی روشنی کی سکائی بھی جوڑوں کے درد میں مفید ہے۔
ایکیوپنکچر سے بھی جوڑوں کے درد کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ جوڑوں کے درد کے افراد کو وزن اٹھانے سے پرہیز کرنا چایئے۔ سیڑھیاں چڑھنے، اور اٹھنے بیٹھنے میں بھی احتیاط کرنی چاہئے۔ سردی کے موسم میں گرم کپڑے سے جوڑ کے درد والی جگہ کو لپیٹ لینا چایئے، مخصوص قسم کی پٹیاں، موزے وغیرہ بھی جوڑوں کے درد کی شدت کو کم کرتے ہیں۔اور آرام پہنچاتے ہیں۔ بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنا چاہئے۔ ہلکی پھلکی ورزش یا مساج سے بھی جوڑوں کے درد میں کافی آرام ملتا ہے۔
طبی دنیا کا معتبر نام رحیمی شفاخانہ بنگلور،بالمشافہ ملاقات کریں یا آن لائن رابطہ کریں فون نمبر: 9343712908 |



