سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

حفظانِ صحت,موسمِ سرما میں احتیاطی تدابیر-ڈاکٹر قرۃ العین فاطمہ عثمان دہلی

وٹامن اے اور سی والی سبزیاں اور پھل

ہندوستان سمیت دنیا کے بہت سے ممالک میں جہاں ان دنوں سردی کا موسم عروج پر ہے وہیں بدلتے موسم میں کئی افراد فلو اور زکام کے باعث طبیعت کی ناسازی سے بھی پریشان رہتے ہیں۔ تاہم اس موسم میں صحت مند رہنے اور ٹھنڈ اور فلو سے بچنا چاہتے ہیں تو کچھ آسان اقدامات سے آپ ان سے محفوظ رہ کر موسم کی خوبصورتی سے بآسانی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ سردی میں ٹھنڈ لگنے سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ کچھ ایسا مشکل کام نہیں۔ بس اس کے لیے آپ کو کچھ آسان سی تدابیر اختیار کر کے اپنے مدافعتی نظام کو بہتر کرنا ہو گا۔ موسم سرما میں نزلہ زکام سے بچنے کے لیے کھانے کے لیے بہترین غذا سے لے کر ورزش کے دورانیہ کو جاننا ہو گا۔

ہماری قوت مدافعت کو بڑھانے میں صرف وہی اضافی وٹامنز حاصل کرنا ہی کافی نہیں ہوتے جو ہمیں بہت سارے بیش قیمت پھلوں اورسبزیوں سے ہی مل سکتی ہے بلکہ سردیوں کے مہینوں میں چند دوسری غذاؤں اور دیگر اقدامات کے ذریعہ خود کو فٹ اور صحت مند رکھا جاسکتا ہے۔

وٹامن اے اور سی والی سبزیاں اور پھل

میٹھے آلو، بٹرنٹ اسکواش اور چقندر جیسی سبزیاں بیٹا کیروٹین سے بھرپور ہوتی ہیں۔ یہ سبزیاں ہمارے جسم میں جا کر وٹامن اے میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ہمیں وٹامن اے کی ضرورت اس لیے ہوتی ہے تاکہ ہماری ناک اور پھیپھڑوں میں بلغم کے استر(تہہ) کو اتنا مضبوط رکھا جا سکے جو انفیکشن سے بچا سکے۔ دیگر غذاؤں میں نارنجی، آم، خوبانی اور خربوزوں سمیت دیگر سرخ پھل شامل ہیں اور سبزیاں بھی اکثر وٹامن سی کے اچھے ذرائع میں شمار کی جاتی ہیں۔ جن سے ہمارے مدافعتی نظام کو سہارا ملتا ہے۔

اگرچہ وٹامن سی کے استعمال کو طویل عرصے سے عام نزلہ زکام کے خلاف نہ صرف ایک مفید احتیاط سمجھا جاتا بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب آپ پہلے ہی فلو سے متاثر ہو چکے ہوں تو بھی اس سے نجات میں مدد مل سکتی ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ وٹامن سی کی زیادہ مقدار ان لوگوں کے لیے سب سے مفید ہے جو مختصر عرصے میں شدید جسمانی بیماریوں کا سامنا کرتے ہیں۔ گہرے سبز رنگ کے پتوں والی سبزیاں جیسے ساگ اور پالک، کالی مرچ، بروکولی، مٹر جبکہ پھلوں میں کیوی، مالٹا، نارجنی اوراس قبیل کے ترش پھلوں سے وٹامن سی بڑی مقدار میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔

لہسن اور پیاز

لہسن پیاز سبزیوں کی اس حیرت انگیز قبیل میں ایسا طاقتور تیل ہوتا ہے جو اینٹی مائیکروبیل خصوصیات کے باعث بیکٹیریل اور وائرل انفیکشن سے بچانے میں مدد کرتا ہے۔ پیاز اور لہسن پری بائیوٹک (صحت مند بیکٹیریا) کو فروغ دینے کے سبب آنتوں کی صحت بھی بہتر رکھتا ہے۔ٹھنڈ سے بچاؤ میں لہسن کی افادیت کی حمایت کرنے والے ٹرائلز تاحال ناقص معیار کے رہے اس لیے اس کے طبی ثبوت بہت کم ہیں تاہم چونکہ لہسن اور پیاز دونوں کے متاثر کن طبی فوائد ہیں اس لیے ان کو روز مرہ کی خوراک میں شامل رکھنا ضروری ہے۔اگر آپ لہسن کھانے کے بعد سانس کی بو یا ذائقے کو نا پسند کرتے ہیں تو خمیر شدہ سیاہ لہسن کوآزما کر دیکھیں۔ اس کا جہاں ذائقہ منفرد ہوتا ہے وہیں لہسن کے مقابلے میں دوگنا ذیادہ بہتر ہوتا ہے۔

وٹامن ڈی

مجموعی صحت کے لیے وٹامن ڈی غذا کا اہم جزو ہے۔ تحقیق سے علم ہوا ہے کہ اس اہم وٹامن کی کمی والے افراد میں انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ سردیوں کے مہینوں میں، سورج کی روشنی کی کم سطح کا مطلب ہے کہ ہمیں اپنی خوراک سے وٹامن ڈی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ وٹامن ڈی کے حصول کے لیے تیل والی مچھلی جیسے سالمن اور میکریل، انڈے اور مشروم کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ سردیوں کے دوران باقاعدگی سے ان کھانوں کا استعمال وٹامن ڈی کی سطح کو بڑھانے کا ایک مفید طریقہ ہے۔ وٹامن ڈی کی یہ مقدار دھوپ سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔

اوٹس اور جو

اوٹس اور جو میں پانی میں گھلنے والا فائبر ہوتا ہے جسے بیٹا گلوکینز کہا جاتا ہے۔یہ ہمارا پیٹ مکمل بھرنے کے احساس کے ساتھ ساتھ اپنے اندر مدافعتی اثرات بڑھانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔اس اناج سے حفاظتی مدافعتی خلیوں کی تعداد اور کام کو بڑھانے میں کافی مدد ملتی ہے۔ جئی اور جو کو مختلف طریقہ سے دلیہ، سلاد اور سوپ کے اندر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

صحت مند چربی

اومیگا 3 فیٹ ہماری صحت کے بہت سے پہلوؤں کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے اس سے مدافعتی خلیوں کی پیداوار ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ صحت کے رہنما خطوط کے مطابق ہفتے میں دو بار مچھلی کو کھانا انتہائی مفید ہے اور اس میں کم از کم ایک حصہ تیل والی مچھلی ہونی چاہیے جن میں میکریل، سالمن، سارڈینز اور ٹراؤٹ شامل ہیں۔
اور اگر آپ سبزی خور ہیں تو آپ کو پودوں سے حاصل ہونے والا اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کے ذرائع اپنی غذا میں شامل کرنا ہوں گے جیسے چیا سیڈز، فلیکس سیڈز اور اخروٹ۔ جبکہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کے حصول کے لیے طبی ماہر کے مشورے سے سپلیمنٹ بھی لیا جا سکتا ہے۔

صحت مند آنتیں

صحت مند اور تندرست رہنے کیلئے آنتوں کی اچھی صحت بہت ضروری ہے۔ درحقیقت ہمارے مدافعتی دفاع کا ستر فیصد سے زیادہ حصہ ہماری آنتوں کے بلغمی استر کے ساتھ ہوتا ہے۔اسلئے اسے بالکل درست حالت میں رکھنا انفیکشن کے خلاف دفاع کا پہلا قدم ہے۔ دہی، بند گوبھی جیسی پروبائیوٹک غذائیں آنتوں میں فائدہ مند بیکٹیریا کو پھلنے پھولنے میں مدد کر سکتی ہیں۔ اگر یہ غذائیں آپ کیلئے نئی ہیں تو انھیں آہستہ آہستہ اپنی غذا میں شامل کریں تاکہ آپ کے نظام انہضام کو اس کا عادی ہونے کا وقت ملے۔

ہاتھوں کی صفائی

جب سردی اور فلو کا موسم آتا ہے تو دراصل ہمیں حفظان صحت پر توجہ دینے کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ واقعی اس ٹھنڈ میں بیمار ہونے سے بچنا چاہتے ہیں تو کسی بھی مشترکہ کی بورڈز اور فونز کو استعمال کرنے سے پہلے اسے اینٹی سیپٹک وائپ سے صاف کریں۔ اپنے ہاتھوں کو بار بار دھوئیں اور انھیں اپنے چہرے سے دور رکھیں۔ خاص طور پر اپنے منہ اور ناک کو بار بار چھونے سے بچیں۔

روزش

جہاں تک ممکن ہو دن کی روشنی میں باہر نکلیں اور جسمانی طور پر متحرک رہیں۔ اعتدال پسند ورزش ہمارے مدافعتی نظام کو سہارا دینے میں مددگار ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ یہ خون کے سفید خلیوں کی پیداوار کو تحریک دیتی ہے۔ سفید خلیے ہمیں بیماری سے بچاتے ہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ بار بار ضرورت سے زیادہ ورزش مدافعتی ردعمل کو کم کر سکتی ہے لہٰذا ورزش میں اعتدال پسند سطح پر قائم رہیں۔ گھر پر ورزش کرنے کے لیے کئی آن لائن گائیڈز موجود ہیں جس سے آسانی سے متحرک رہا جا سکتا ہے۔

گرم اور ٹھنڈے پانی کا غسل

یہ ایک غیر معمولی طریقہ ہے، لیکن اگر آپ واقعی سردی سے بچنے کے خواہشمند ہیں تو یہ کوشش قابل عمل بنائی جا سکتی ہے۔ ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ روزانہ نہانے کے درجہ حرارت کو گرم سے سرد (تقریباً ہر 2-3 منٹ) میں تبدیل کرنے سے خون کے سفید خلیوں کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سے کچھ فائدہ اگر نہ بھی ہو سکے تو یہ ضرور ہو گا کہ آپ صبح سب سے پہلے جاگنے والے شخص ہوں گے جس سے آپ کو کئی دیگر فوائد بھی حاصل ہوں گے۔

پرسکون نیند

ہمارے مدافعتی نظام کے ردعمل اور ہماری نیند کے معیار کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ قدرتی اور پرسکون نیند مدافعتی نظام پر مضبوط ریگولیٹری اثرات پیدا کرتی ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جو لوگ شفٹوں میں کام کرتے ہیں ان میں نیند کے اوقات متاثر ہونے سے وائرل انفیکشن سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ آپ کے روزمرہ کے نمونے کچھ بھی ہوں، ایک آرام دہ، تاریک بیڈروم کو یقینی بناکر خود کو اچھی رات کی نیند کا بہترین موقع فراہم کریں اور شام سے پہلے بھی مختصر آرام کرنے کیلئے وقت نکالیں۔

اردو دنیا واٹس ایپ گروپ https://chat.whatsapp.com/C6atlwNTZ9M9y5J2MFYNGx  جوائن کرنے کے لئے لنک کلک کریں

پیشاب کی زیادتی

جن لوگوں کو بار بار پیشاب آنے کی شکایت ہو ان کے لئے ایک بہترین نسخہ پیش خدمت ہے، جاوتری پچاس گرام اور مصری پچاس گرام دونوں کو باریک سفوف بناکر چھان لیں، صبح وشام دو دو گرام سادہ پانی کے ساتھ لیں، چند دونوں کے استعمال سے ہی بفضلہ تعالیٰ پیشاب کی زیادتی اور اس پریشان کن مرض سے نجات مل جائے گی۔

ضدی داغ  اگر سفید کپڑوں پر داغ لگ جائے تو کارن فلور لگا کر دس منٹ کے لئے چھوڑ دیں، پھر ہاتھ سے ہٹا کر اس پر لیموں اور نمک لگا کر دو تین دفعہ کپڑے پر ملیں، پھر دھوپ میں پانچ منٹ رکھ کر اچھی طرح صابن سے دھو لیں، داغ صاف ہو جائے گا۔

گیس غبار

پودینہ کے دس سے بارہ پتے لے کر ڈیڑھ کپ پانی میں ابال لیں، جب ایک کپ رہ جائے تو دو چمچ شہد ملا کر دن میں دو مرتبہ چسکی چسکی پئیں، ہر قسم کا گیس غبار اور پیٹ کی مروڑ ختم ہو جائے گی۔

طبی دنیا کا معتبر نام رحیمی شفاخانہ بنگلور،بالمشافہ ملاقات کریں یا آن لائن رابطہ کریں فون نمبر: 9343712908

متعلقہ خبریں

Back to top button