زبیدہ اور ایمن بہت اچھی سہیلیاں تھیں۔ دونوں بہت ذہین تھیں اور اسکول میں ہمیشہ اچھی پوزیشن لیتی تھیں۔ کچھ دنوں سے زبیدہ پڑھائی میں کمزور ہوتی جا رہی تھی اور وقت پر اسکول بھی نہیں آرہی تھی جب ایمن نے زبیدہ سے پوچھا۔ کیا وجہ ہے کہ تم آج کل تاخیر سے پہنچ رہی ہو، جس کی وجہ سے تمہیں جرمانہ بھی ہوتا ہے اور دوسری بات یہ کہ تم پڑھائی میں بھی اتنی دلچسپی نہیں لے رہی ہو، جتنی کہ پہلے لیتی تھیں۔ تم مجھے بتائو! آخر کیا وجہ ہے؟ میں تمہاری سب سے اچھی دوست ہوں اور تمہارے احساسات کو سمجھ سکتی ہوں۔
شاید میں تمہاری کچھ مدد کر سکوں اور مجھے یہ بھی پتا ہے کہ یہ سب کچھ تم جان بوجھ کر زبیدہ نے کہا۔ ایمن! مجھے پتا ہے کہ تم میری پریشانی کو سمجھ سکتی ہو، اس لئے میں تم سے شیئر کر رہی ہوں، اصل بات یہ ہے کہ میں گھر جا کر کمپیوٹر پر گیم کھیلنے بیٹھ جاتی ہوں، میں اپنی اس عادت کو بدلنا چاہتی ہوں مگر میرے لیے اپنی یہ عادت چھوڑنا بہت مشکل ہوگیا ہے، کھیل کھیل میں نہیں کر رہی ہو۔وقت اتنی جلدی گزر جاتا ہے کہ پتا ہی نہیں چلتا کب شام ہوئی اور کب ہوم ورک کرنے کا وقت بھی نکل گیا، میری امی بھی مجھ سے پریشان ہو گئی ہیں، پہلے میں باقاعدگی سے پڑھنے بیٹھتی تھی، اسکول کا کام وقت پر مکمل کرتی تھی لیکن اب میرا گیم کھیلنے کے علاوہ کسی دوسرے کام کو کرنے کا دل نہیں چاہتا۔
اچھا مجھے یہ بتاؤ، تم اسکول سے گھر پہنچنے کے بعد کیا کرتی ہو؟ میں اسکول سے سے گھر جاکر کھانا کھاتی ہوں، گیم کھیلتی ہوں، پھر نیند آجاتی ہے تو سو جاتی ہوں، سو کر اٹھتی ہوں تو شام کے ناشتے کا وقت ہو رہا ہوتا ہے، اس کے بعد پڑھنے بیٹھتی ہوں لیکن اسکول کا کام مکمل نہیں کرپاتی۔ اتنے میں رات بھی ہو جاتی ہے تو میں دوبارہ کمپیوٹر پر گیم کھیلنے لگتی ہوں۔ بس یہی وجہ ہے کہ میں صحیح طرح سے اپنی پڑھائی کی طرف دھیان نہیں دے رہی۔ ایمن نے زبیدہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے پوچھا۔ اور صبح آنے میں تاخیر کیوں ہوتی ہے؟
زبیدہ نے کہا۔ وقت ضائع کرنے کی وجہ سے اکثر رات کو دیر سے سوتی ہوں اور اسی وجہ سے اسکول پہنچنے میں دیر ہو جاتی ہے اور صحیح طرح سے پڑھا بھی نہیں جاتا۔ کیونکہ اب ہر وقت مجھے تھکن محسوس ہوتی رہتی ہے۔‘‘ایمن نے کہا۔ زبیدہ، تم ہر کام اس وقت کر سکتی ہو، جب تم وقت کی پابندی کروگی وقت کو استعمال کرنا ایک ہنر ہے اور جو اس ہنر کو سیکھ لیتے ہیں وہی کامیاب ہوتے ہیں۔ زندگی مشکل ہے اور اسے آسان بنانا پڑتا ہے۔ کبھی وقت کی پابندی کر کے تو کبھی صبر اور برداشت کر کے۔
ہر کام کرنے کا ایک وقت ہوتا ہے، جب وہ کام اس وقت کے مطابق نہ ہو تو حالات بگڑ جاتے ہیں اور صحت پر بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ایک بات تم ہمیشہ یاد رکھنا کہ تم اپنی زندگی میں سامنے آنے والی پریشانیوں سے گھبرانا نہیں کیونکہ تمہیں کوئی بھی اس وقت تک ہرا نہیں سکتا جب تک تم خود شکست تسلیم نہ کرلو۔ اس لئے صبر سے کام لو اور صبر جتنا زیادہ کروگی پھل اتنا ہی زیادہ میٹھا ملے گا اور میں نے اپنی زندگی میں صبر کا ذائقہ چکھا ہے اور صبر کے بعد جو خوشی ملتی ہے، وہ بے مثال ہوتی ہے۔‘‘ ایمن تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ آئندہ میں وقت کی پابندی کروں گی اور اپنی عادت پر قابو پانے کی کوشش بھی کروں گی۔
پیارے بچو! ہمیں اس کہانی سے سبق ملتا ہے کہ وقت کی پابندی کرنی چاہئے اور ہر کام اس کے وقت کے مطابق کرنا چاہئے مثلاً کھیلنے کے وقت کھیلنا، کھانا کھانے کے وقت کھانا، کام کے وقت کام اور آرام کے وقت آرام، اس طرح سے ہماری صحت بھی اچھی رہے گی اور ہم کامیاب انسان بھی بن سکیں گے۔٭



