اسرائیل نے حسن نصراللہ کو قتل کرنے کا فیصلہ 2006 میں ہی کر لیا تھا
بمباری کے ذریعے مکمل ناکہ بندی بھی کر دی گئی تھی
مقبوضہ بیت المقدس ،6جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے حزب اللہ سربراہ حسن نصراللہ کے حوالے سے نئی رپورٹس سامنے آرہی ہیں۔رپورٹس کے مطابق سیکرٹری جنرل حزب اللہ کے بارے میں اسرائیلی انٹیلی جنس کو کئی روز پہلے سے درست اطلاعات مل چکی تھیں کہ حسن نصراللہ کہاں اور کب ہوتے ہیں یا ہو سکتے ہیں۔الشرق الاوسط میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے سربراہ کو قتل کرنے کے لیے 14 مقامات پر بمباری کی گئی اس بمباری میں ان سب عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں حسن نصراللہ کے داخل ہونے کی اطلاع تھی۔ بمباری کرتے ہوئے وہ تمام ممکنہ راستے بھی ہدف بنائے گئے جو ان عمارات سے بچ نکلنے کی صورت کام آ سکتے تھے۔
گویا بمباری کے ذریعے مکمل ناکہ بندی بھی کر دی گئی تھی۔ اسی طرح بمباری کے بعد ریسکیو آپریشن کا امکان ختم کرنے کیلیے اس بمباری کو مسلسل جاری رکھا گیا اور کئی دن تک کی گئی۔واضح رہے اسرائیلی فوج کی غزہ میں لمبی ناکہ بندی کا مقصد بھی ایک تو فلسطینیوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں ہلاک کرنے کے لیے بمباری سے نتائج حاصل کرنا ہوتے ہیں اور دوسرا ریسکیو کے لیے آنے والی ٹیموں کا راستہ روکنا بھی ہوتا ہے تاکہ فلسطینی شہری تڑپ تڑپ کر مرتے رہیں اور مرنے میں کوئی شبہ نہ رہ جائے۔ْ
یہی اسٹریٹجی یہاں اختیار کرتے ہوئے جنوبی بیروت پر بمباری کی گئی۔الشرق الاوسط کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیکیورٹی ادارے یہ تصدیق کرتے ہیں کہ اسرائیل نے 2006 میں ہی حسن نصراللہ کو قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اس مقصد کے لیے اسرائیل کے انٹیلی جنس اور سیکیورٹی ادارے مسلسل کوشاں رہے، تاہم یہ فیصلہ اسرائیل کی سیاسی قیادت نے کرنا تھا کہ حسن نصراللہ کو نشانہ بنانے کا بہترین اور مناسب ترین وقت کون سا ہوگا۔سات اکتوبر کے بعد اسرائیلی قیادت نے حتمی طور پر فیصلہ کر لیا کہ اب حزب اللہ کے سربراہ کا قتل بھی ممکن بنا لینا ہے۔اس مقصد کے لیے اسرائیلی سیکیورٹی اداروں نے حسن نصراللہ اور حزب اللہ کو یہ دھوکہ دینے کی سٹریٹجی اپنائی کہ اسرائیل کسی صورت سرحدی کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہے گا۔ حسن نصراللہ اسرائیل کے اس دھوکے میں آگئے اور انہوں نے اپنی سیکیورٹی کو زیادہ سخت نہیں کیا۔



