تلنگانہ کی خبریں

پراپرٹی ٹیکس دہندگان کے لئے ون ٹائم سیٹلمنٹ اسکیم میں توسیع

اسکیم

تلنگانہ : (اردودنیا.اِن)حکومت نے جائیداد ٹیکس کی ادائیگی کیلیے ایک بار پھر ’ون ٹائم سٹلمنٹ‘ (او ٹی ایس) اسکیم کو متعارف کرکے جائیداد ٹیکس بقایاجات پر 90 فیصد سود پر سبسیڈی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جی ایچ ایم سی کے بشمول دوسری بلدیات و کارپوریشنس میں اس اسکیم پر عمل آوری کیلئے محکمہ بلدی نظم و نسق نے احکامات جاری کردیئے۔ سال 2019-2020ء کیلئے زیر التوا جائیداد ٹیکس بقایا جات کے سود پر 31 مارچ تک 90 فیصد سبسیڈی فراہم کرنے سے حکومت نے اتفاق کیا ہے۔

31 مارچ تک سود پر 90 فیصد سبسیڈی، بلدیہ کو 150 تا 200 کروڑ روپئے وصولی کی امید

کورونا بحران جائیداد ٹیکس بقایا جات میں زبردست اضافہ کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلی مرتبہ (او ٹی ایس) اسکیم کا اگسٹ میں اعلان کیا گیا تھا۔ 16 ستمبر تا 31 اکٹوبر تک پہلی مرتبہ اس میں توسیع دی گئی تھی۔ بعدازاں 30 نومبر تک پھر توسیع دی گئی تھی۔ جس سے جی ایچ ایام سی میں 275 کروڑ روپئے وصول ہوئے تھے۔

دراصل 2500 کروڑ روپئے بقایا جات سرکاری شعبوں کے ٹیکسوں کے علاوہ 2.5 لاکھ خانگی جائیدادوں کے ٹیکس بقایا جات 1400 کروڑ وصول طلب تھے۔ لیکن 275 کروڑ روپئے وصول ہوئے۔ کورونا بحران کے بعد او ٹی ایس کے اعلان سے ایک طرف بحران کا اثر دوسری طرف ریکارڈ پر بارش و سیلاب سے توقع کے مطابق عوامی ردعمل حاصل نہ ہونے کا عہدیداروں نے جائزہ لینے کے بعد ایک بار پھر اس اسکیم کا اعلان کرنے کا دو ماہ قبل ہی حکومت کو مکتوب روانہ کیا تھا۔ جس پر اب حکومت نے تازہ احکامات جاری کیئے۔ جاریہ مالیاتی سال چوتھی مرتبہ’ون ٹائم سٹلمنٹ‘ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

مہلت کے اختتام کے بعد حقیقی ٹیکس پر ماہانہ 2 فیصد سود عائد ہوتا ہے۔ دو تین سال تک مختلف وجوہات کی وجہ سے ٹیکس کی عدم ادائیگی پر مالکین پر حقیقی ٹیکس سے زیادہ سود عائد ہوتا ہے جس سے لوگ ٹیکس کی ادائیگی کیلئے آگے نہیں آرہے ہیں۔ جی ایچ ایم سی کو امید ہے کہ اس اسکیم سے بلدیہ کو 150 تا 200 کروڑ روپئے وصول ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button