میٹا نیومو وائرس HMPV کی حقیقت جانئے، کیا کووڈ جیسا ماحول دوبارہ بن رہا ہے؟
مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ
لندن،6جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) چین میں سانس کی بیماری کا سبب بننے والے وائرس کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کے نتیجے میں ہسپتال متاثرہ افراد سے بھر گئے ہیں۔اس صورت حال کے پیش نظر ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں جب کہ لوگوں میں نئی وبا کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔یہ وائرس جس کی شناخت انسانی میٹا نیومو وائرس (ایچ ایم پی وی) کے طور پر ہوئی، رواں موسم سرما میں شمالی چینی صوبوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے، خاص طور پر بچوں میں۔یہ وبا پانچ سال بعد دوبارہ سامنے آئی ہے، اس وقت دنیا کو پہلی بار ووہان، چین میں نئے کورونا وائرس کے پھیلنے کے بارے میں خبردار کیا گیا جو بعد میں ایک عالمی وبا بن گئی اور جس میں 70 لاکھ اموات ریکارڈ کی گئیں۔
سوشل میڈیا پر چین کے ہسپتالوں میں ماسک پہنے لوگوں کی تصاویر اور ویڈیوز منظر عام پر آئی ہیں۔ مقامی اطلاعات کے مطابق ایچ ایم پی وی کے اس پھیلاؤ کے مناظر ابتدائی کووڈ وبا سے ملتے جلتے ہیں۔صحت کے حکام وائرس کے پھیلاو? کی نگرانی اور اس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہے ہیں۔ تاہم بیجنگ نے ان واقعات کو ہر سال موسم سرما کا معمول قرار دے کر انہیں کم اہمیت دی ہے۔چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے جمعے کو کہاکہ سانس کی بیماریوں کا موسم سرما کے دوران عروج پر پہنچنا معمول کی بات ہے۔‘وزارت کا کہنا تھا کہ ’یہ بیماریاں گذشتہ سال کے مقابلے میں کم شدت کی اور چھوٹے پیمانے پر پھیل رہی ہیں۔
انسانی میٹا نیومو وائرس (ایچ ایم پی وی) سانس کا وائرس ہے جو عام زکام اور فلو سے ملتی جلتی علامات پیدا کرتا ہے۔ اگرچہ بیماری عام طور پر معمولی ہوتی ہے لیکن وہ سنگین پیچیدگیوں جیسے کہ نمونیا کا سبب بن سکتی ہے۔ خاص طور پر شیر خوار بچوں، معمر اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد میں۔یہ وائرس نیا نہیں لیکن شمالی چین میں خاص طور پر 14 سال سے کم عمر بچوں میں کیسز کے اضافے کے باعث اس پر توجہ دی جا رہی ہے۔ایچ ایم پی وی کو پہلی بار 2001 میں دریافت کیا گیا۔ یہ ایک ہی سیکوئنس رکھنے والا آر این اے وائرس ہے جو سانس کے ساتھ نکلنے والے پانی کی انتہائی چھوٹی بوندوں یا آلودہ سطحوں کو چھونے سے پھیلتا ہے۔ یہ انفیکشن پہلے بھی مختلف ممالک، بشمول برطانیہ، میں شناخت کی جا چکی ہے۔



