بین الاقوامی خبریں

صدارت سنبھالنے سے قبل حماس نے یرغمال رہا کرے ورنہ’ قیامت‘ ہو گی: ٹرمپ

اسرائیل سے یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کا مطالبہ

واشنگٹن،8جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور صدارت کے آغاز سے دو ہفتے قبل ایک پریس کے دوران خارجہ پالیسی کے اہم امور پر اپنے موقف کی وضاحت کی۔مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں بات کرتے ہوئے انہوں نے عسکریت پسند گروپ حماس کے ہاتھوں ایک سال سے زیادہ عرصہ قبل اسرائیل سے یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔اس سلسلے میں امریکی ریاست فلوریڈا میں پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے یرغمالوں کی رہائی نہ ہونے کی صورت میں چھ بار زور دیتے ہوئے کہا کہ قیامت برپا ہو جائے گی۔گزشتہ سال اکتوبر میں فلسطینی گروپ حماس کے اسرائیل کے جنوبی علاقوں میں اچانک دہشت گردانہ حملے نے ایک وحشیانہ تنازعہ کو جنم دیا۔اس سے خطے میں جنگ کی آگ بھڑک اٹھی جس میں ہزاروں شہری مارے جا چکے ہیں جبکہ غزہ میں جنگ جاری ہے۔

ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی بھی اس موقع پر اپنی حالیہ اعلیٰ سطحی بات چیت کے بارے میں نامہ نگاروں کو بریف کرنے کے لیے پوڈیم پر موجود تھے۔ایلچی اسٹیو وٹکاف نے بتایا کہ ان کی ٹیم ایک معاہدے کے حصول کے قریب ہے اور وہ آنے والے دنوں میں واپس خطے میں جائیں گے۔ٹرمپ نے اپنے ایلچی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، میں آپ کے مذاکرات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔لیکن اگر یرغمالی میرے منصب سنبھالنے تک واپس نہیں آئے تو مشرقِ وسطیٰ میں قیامت برپا ہو جائے گی اور یہ حماس کے لیے اچھا نہیں ہوگا، اور سچ تو یہ ہے کہ یہ کسی کے لیے بھی اچھا نہیں ہوگا۔

یوکرین جنگ کے ضمن میں بات کرتے ہوئے انہوں نے روس کے صدر سے ملنے میں دلچسبی کا اظہار کیا۔ٹرمپ نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ یوکرین تنازعہ کوسلجھانا چاہتے ہیں۔تاہم، انہوں نے اس سلسلے میں کوئی وضاحت نہیں کی کہ وہ کیسے اس معاملے کو سلجھائیں گے۔جب ان سے یوکرین کے امن منصوبے میں شامل کیف کے نیٹو میں شامل ہونے کے مطالبے کے بارے میں پوچھا گیا تو ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں اس بات کو ہمیشہ سمجھا گیا کہ یوکرین کو سیکورٹی اتحاد میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

اس موقع پر ٹرمپ نے امریکہ کے ہمسایہ ملکوں کینیڈا اور میکسیکو کے خلاف محصولات بڑھانے کی اپنی دھمکیوں کو دہرایا۔تاہم، ٹرمپ نے گرین لینڈ، جو کہ ڈنمارک کا خود مختار علاقہ ہے، کے بارے میں یہ نہیں بتایا کہ امریکہ کیسے اس کا کنٹرول حاصل کرے گا۔منتخب صدر متوقع طور پر جمعرات کو واشنگٹن میں کارٹر کی قومی سطح پر منعقد ہونے والی آخر رسومات میں شرکت کریں گے۔ اس موقع پر صدر جو بائیڈن خراج عقیدت پیش کریں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button