بین الاقوامی خبریںسرورق

لاس اینجلس میں مہیب آتشزدگی ، ہالی ووڈ ہلز بھی لپیٹ میں آگیا

رہائش پذیر ایک لاکھ 30 ہزار سے زیادہ آبادی کو علاقہ خالی کرنے کے احکامات جاری

واشنگٹن ،9جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس کے جنگلات میں لگنے والی آگ بے قابو ہو چکی ہے اور بدھ کی شب آگ نے بالی ووڈ ہلز کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔فائر فائٹرز پہلے ہی تین مختلف مقامات پر آگ بجھانے میں مصروف ہیں اور اب تک آگ سے پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو فوری علاقہ خالی کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔بدھ کی شب ہالی وڈ ہلز میں لگنے والی آگ پبلک پارک ہالی وڈ باؤل سمیت دیگر مشہور مقامات پر بھڑک رہی ہے۔آگ کی وجہ سے میٹروپولیٹن ایریا میں کوسٹ آئی لینڈ سے پسادینا تک رہائش پذیر ایک لاکھ 30 ہزار سے زیادہ آبادی کو علاقہ خالی کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

لاس اینجلس میں منگل کی صبح لگنے والی آگ کے باعث اب تک ایک ہزار سے زائد اسٹرکچر جل کر خاک ہو چکے ہیں جن میں بیشتر لوگوں کے گھر ہیں۔تیز ہواؤں کی وجہ سے جیسے جیسے آگ مختلف مقامات پر لگ رہی ہے ویسے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔صدر جو بائیڈن نے کیلی فورنیا آتش زدگی کے باعث اپنی مدتِ صدارت کا آخری غیر ملکی دورہ منسوخ کر دیا ہے۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر بائیڈن نے دورہ اٹلی و ویٹیکن روانگی سے چند گھنٹے قبل ہی اپنا دورہ منسوخ کرتے ہوئے واشنگٹن میں ہی رہتے ہوئے آگ کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

لاس اینجلس کی میئر کیرن بیس کے مطابق ریاست بھر سے آنے والے فائر فائٹرز آگ بجھانے میں مصروف ہیں جب کہ آگ پر قابو پانے کے لیے فضائی آپریشنز بھی جاری ہیں۔فائر چیف چاڈ آگسٹن کے مطابق منگل کی شب لگنے والی آگ سے صرف پسادینا کے علاقے میں 200 سے 500 کے درمیان اسٹرکچر تباہ ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ شب آگ پر قابو نہیں پا سکے، تیز ہوائیں آگ کو دور دور تک بھڑکا رہی ہیں۔دوسری جانب پیلیسیڈ کے علاقے میں ایک ہزار سے زائد اسٹرکچر تباہ ہو گئے ہیں۔آگ سے ہونے والی تباہی کو لاس اینجلس کی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button