دنیا کے غریب ترین صدر نے آخر کار سرطان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے
ان کی کیموتھراپی کے 32 سیشن ہو چکے ہیں۔
لندن، 10جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دنیا کے غریب ترین سربراہ کا خطاب پانے والے یوراگوائے کے سابق صدر خوسے موخیکا کا کہنا ہے کہ سرطان کا مرض ان کے جسم میں پھیل کر جگر تک پہنچ چکا ہے جس کے سبب اب وہ اس بیماری کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں۔ خوسے 2010 سے 2015 تک ملک کے صدر رہے تھے۔یوراگوائے میں ہر جمعرات کو شائع ہونے والے جریدے Búsqueda کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں خوسے نے کہا کہ میری زندگی کا دورانیہ ختم ہو چکا ہے۔ میں اب مر رہا ہوں اور جنگجو کو آرام کا حق ہے۔چار ماہ بعد خوسے کی عمر 90 برس ہو جائے گی۔ یوراگوائے کو لاطینی امریکا کا سوئٹزرلینڈ کہا جاتا ہے۔یہ بات معروف رہی ہے کہ خوسے نے منتخب ہونے کے بعد صدارتی محل میں قیام سے انکار کر دیا تھا۔ جب وہ صدر تھے تو اپنی تنخواہ (4 ہزار ڈالر) کا 90% حصہ خیراتی انجمنوں کو عطیہ کر دیتے تھے۔
وہ اپنی مدت صدارت کے دوران میں ایک چھوٹے سے فارم پر انتہائی معمولی گھر میں اپنی بیوی اور اپنی کتیا کے ساتھ رہے۔ وہ 1987 ماڈل کی واکس ویگن گاڑی میں صدارتی محل جایا کرتے تھے۔نومبر 2014 میں ایک دولتمند عرب نے یہ گاڑی خریدنے کے لیے خوسے کو دس لاکھ ڈالر کی پیش کش کی۔ تاہم خوسے نے اسے فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ جب تک وہ زندہ ہیں اس وقت تک یہ گاڑی گھر کے گیراج میں ہی رہے گے۔جہاں تک خوسے کی بیماری کا تعلق ہے تو ان کی کیموتھراپی کے 32 سیشن ہو چکے ہیں۔ ان کی رسولی غائب ہو گئی تھی تاہم دو ماہ قبل وہ دوبارہ لوٹ آئی اور جگر کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔دنیا کے اس غریب ترین صدر نے باور کرایا کہ وہ مزید انٹرویوز نہیں دیں گے اور آئندہ کہیں بھی علانیہ نمودار نہیں ہوں گے۔ جریدے کو دیے گئے انٹرویو میں خوسے نے اس آرزو کا اظہار کیا کہ وہ اپنے فارم پر مرنا چاہتے ہیں اور یہ کہ ان کی آخری آرام گاہ فارم ہاؤس کی مٹی کے نیچے ان کی کتیا مانویلا کے پہلو میں ہو۔



