بین الاقوامی خبریںسرورق

پولینڈ: وارنٹ گرفتاری کے باوجود کوئی اسرائیلی نمائندہ گرفتار نہیں ہوگا

اسرائیل کی قیادت اور عوام میں اس بارے میں کافی خوف پایا جاتا ہے

لندن، 10جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)پولینڈ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ماہ نومبر میں جاری کردہ وارنٹ گرفتاری کے باوجود پولینڈ کی سرزمین پر کسی اسرائیلی نمائندے کے لیے کوئی مشکل پیدا نہیں کی جائے گی نہ گرفتاری ہوگی اور اسرائیلی سالانہ 80ویں یہودی تقریب میں شرکت کر سکیں گے۔واضح رہے کہ پولینڈ میں اوشوٹز کے مقام پر بنائے گئے نازی کیمپ میں یہودیوں کی ہلاکتوں کے سلسلے میں یہودی اپنی مظلومیت کو زندہ رکھنے کے لیے ہر سال آتے ہیں۔

پولینڈ کے صدر ایندریزج ڈوڈا نے کہا ہے کہ ان کی حکومت یہ یقینی بنائے گی کہ وزیراعظم نیتن یاہو اگر چاہیں تو وہ با سہولت اور تحفظ کے ساتھ اس سالانہ تقریب میں شرکت کر سکیں۔ انہیں پولینڈ میں فوجداری عدالت کی طرف سے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری کے باوجود کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے۔واضح رہے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے جنگی جرائم کی بنیاد پر بین الاقوامی فوجداری عدالت نے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ جس غزہ جنگ کے جنگی جرائم کو بنیاد بناتے ہوئے فوجداری عدالت نے وارنٹ جاری کیے ہیں اسرائیل نے وہ ساری جنگ امریکی اسلحے اور فوجی امداد کے زور پر لڑی ہے۔اسرائیل وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے اس اقدام کو اگرچہ تنقید کا نشانہ بناتا ہے اور مذمت کرتا ہے۔ مگر اسرائیل کی قیادت اور عوام میں اس بارے میں کافی خوف پایا جاتا ہے۔

اس لیے جب سے یہ وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں، نیتن یاہو اسرائیل سے باہر کسی ملک کے دورے پر نہیں گئے۔ادھر امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دس روز بعد ہونے والی صدارتی حلف کی تقریب کے لیے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو 50 اہم مہمانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ جنہیں امریکہ نے تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ تاہم ابھی تک نیتن یاہو کے وائٹ ہاؤس کی اس تقریب میں متوقع آمد کے بارے میں خبریں زیر بحث نہیں ہیں۔

بلاشبہ امریکہ کی اس دعوت اور نیتن یاہو کی امریکہ آمد ایک بڑا واقعہ ہوگا۔ جسے عالمی ذرائع ابلاغ نظر انداز نہیں کر سکیں گے کہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرنے والے ایک اہم حکومتی عہدیدار کو امریکہ نے اپنے ہاں بطور مہمان بلا رکھا ہے۔پولینڈ کے صدر ڈوڈا انتہائی دائیں بازو کے قوم پرست رہنما ہیں۔ وہ دسمبر 2023 سے اس عہدے پر فائز ہیں۔ادھر اسرائیل نے پولینڈ کی طرف سے اس پیشکش کو پسند کیا ہے۔ تاہم اس بارے میں تبصرہ نہیں کیا کہ نیتن یاہو 27 جنوری کو ہونے والی اس تقریب میں شرکت کے لیے پولینڈ جائیں گے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button