بین ریاستی خبریںسرورق

ملائم سنگھ کا مجسمہ لگانے پر اکھاڑہ پریشد ناراض ،وہ ہندو مخالف تھے!

انہوں ہمارا خون بہایا ہے

پریاگراج،13جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)جونا اکھاڑہ کے مہامنڈلیشور یتی نرسنگھانند نے اس معاملے پر اکھاڑہ پریشد کے صدر کے بیان کی مکمل حمایت کی اور کہا کہ اکھاڑہ پریشد کے لیے اس معاملے کی مذمت کرنا مناسب ہے۔اکھاڑہ پریشد نے اتوار کو اتر پردیش کے پریاگ راج میں ہونے والے مہا کمبھ میلے میں سماج وادی پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو کے مجسمے کی تنصیب کی مذمت کی۔ اکھل بھارتیہ اکھاڑہ پریشد کے صدر رویندر پوری نے کہا کہ ملائم سنگھ کا مجسمہ ہمیں یہ دکھانے کے لیے نصب کیا گیا ہے کہ انہوں ہمارا خون بہایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ملائم سنگھ پر کوئی اعتراض نہیں ہے، وہ ہمارے وزیر اعلیٰ رہے ہیں، لیکن اس وقت مجسمہ لگا کر وہ ہمیں کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔

سبھی جانتے ہیں کہ رام مندر کے لیے ان کا کیا تعاون رہا ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہندو مخالف، سناتن مخالف اور مسلمانوں کے حق میں رہے ہیں۔ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ماتا پرساد پانڈے نے ہفتہ کو مہاکمبھ نگر کے سیکٹر-16 میں ملائم سنگھ یادو اسمرتی سیوا سنستھان کے کیمپ میں نصب اس تین فٹ اونچے مجسمے کا افتتاح کیا تھا۔ یہ ادارہ سندیپ یادو نے قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیتا جی ملائم سنگھ یادو ہمارے لیڈر تھے اور میلے میں آنے والے عقیدت مند اس کیمپ میں جا کر انہیں خراج عقیدت پیش کریں گے۔ایس پی لیڈر نے کہا کہ میلہ ختم ہونے کے بعد مجسمہ کو پارٹی دفتر لا کر نصب کیا جائے گا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ایس پی سربراہ اکھلیش یادو مہا کمبھ میلہ میں اسنان کریں گیتو انہوں نے کہا، میں نے ان سے اس بارے میں بات نہیں کی ہے۔ حالانکہ میں نے ہفتہ کو گنگا میں ڈبکی لگائی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button