بین الاقوامی خبریں

لاس اینجلس: آگ بجھانے والے کارکنان کے ساتھ قیدی کیوں ہیں؟

لاس اینجلس میں تیز ہواؤں سے آگ میں شدت کا اندیشہ، کنٹرول کیلئے کوششیں جاری

نیویارک،14جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) لاس اینجلس اور جنوبی کیلی فورنیا کے دیگر علاقوں میں لگی جنگلات کی آگ پر قابو پانے کے لیے 14 ہزار سے زیادہ فائر فائٹر میدان میں ہیں جن میں 900 سے زائد قیدی بھی شامل ہیں۔ریاست کیلی فورنیا میں جیل خانوں سے متعلقہ محکمے ڈپارٹمنٹ آف کورکیشن اینڈ ری ہیبلی ٹیشن کے مطابق فائر فائٹنگ کرنے والے قیدی دن رات کام میں مصروف ہیں اور آگ کا پھیلاو? روکنے میں مدد کر رہے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ ان قیدیوں کی وجہ سے آگ پر قابو پانے کے لیے درکار فائر فائٹرز کی کمی پوری کرنے میں بھی مدد مل رہی ہے لیکن ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا ہے۔

کیلیفورنیا میں یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی ہنگامی صورتِ حال میں قیدی امددی کاموں میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ سلسلہ 1915 سے جاری ہے۔کیلی فورنیا امریکہ کی ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں جنگلات کی آگ ایک مستقل مسئلہ ہے۔ اس لیے جب دوسری عالمی جنگ میں محکمہ جنگلات کے زیادہ تر ملازمین کو محاذوں پر بھیج دیا گیا تھا تو قیدیوں کو فائر فائٹنگ کی تربیت دینے کے پروگرام کو وسعت دی گئی۔متبادل فائر فائٹرز کے طور پر قیدیوں کی تربیت کے لیے ابتدائی طور پر 41 کیمپ بنائے گئے تھے جن میں سے 35 اب تک فعال ہیں۔کیلی فورنیا کے ڈپارٹمنٹ آف کورکیشن اینڈ ری ہیبلی ٹیشن فائر فائٹنگ کی تربیت اور اس کی ذمے داری کے لیے کوئی زبردستی نہیں کی جاتی بلکہ قیدی اپنی خدمات رضا کارانہ طور پر پیش کرتے ہیں۔

قیدیوں کو فائر فائٹنگ پر بھیجنے سے قبل انہیں فیلڈ ٹریننگ دی جاتی ہے جس کے بعد وہ ٹرینڈ فائر فائٹرز کے ساتھ بطور ہیلپر کام کرتے ہیں۔لیکن فائر فائٹنگ کی یہ جاب ہر قیدی کے لیے نہیں۔ بلکہ صرف وہی قیدی یہ کام کر سکتے ہیں جو کسی سنگین جرم میں قید نہ ہوں اور ان کا جیل میں رویہ بھی بہتر ہو۔

ان قیدیوں کو ایک مختلف کلر کا یونی فارم دیا جاتا ہے جس سے فیلڈ ورک کے دوران بھی انہیں پہچاننا ممکن ہوتا ہے۔فائر فائٹنگ کرنے والے قیدیوں کو نہ صرف ان کے اس کام کا معاوضہ ملتا ہے بلکہ فائر فائٹنگ میں گزرنے والے ہر دن کے بدلے ان کی ایک دن اور بعض صورتوں میں دو دن کی سزا بھی کم ہو جاتی ہے۔ اس طرح قیدیوں کو رہائی کے بعد بھی اچھی نوکری ملنے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔تاہم قیدیوں کی افرادی قوت کو ہنگامی حالات میں استعمال کرنے سے متعلق کئی سوال اور اعتراضات بھی اٹھائے جاتے ہیں۔کیلی فورنیا کے جیل خانوں سے متعلقہ محکمے کے مطابق جان جوکھم میں ڈالنے والے ان قیدی فائر فائٹرز کی اجرت، ان کی ایکسپرٹیز کے مطابق 5.8 ڈالر سے 10.24 ڈالر فی گھنٹہ تک ہے اور وائلڈ فائر جیسے ہنگامی حالات میں خدمات انجام دینے والوں کو ایک ڈالر فی گھنٹہ اضافی دیا جاتا ہے۔

قیدیوں کی بحالی کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں ان اجرتوں کو انتہائی کم قرار دیتی ہیں اور اس کام میں لاحق خطرات کی وجہ سے کم اجرت پر یہ کام کرانا ان کے نزدیک قیدیوں کا استحصال کرنا ہے۔نیو یارک ٹائمز کے مطابق کیلی فورنیا میں کم سے کم اجرت 16.50 ڈالر فی گھنٹہ ہے۔ جب کہ صرف جنگلات کی آگ کے سیزن میں فائر فائٹنگ کرنے والے افراد ماہانہ 400 ڈالر تک بہ آسانی کما لیتے ہیں۔اگرچہ فائر فائٹنگ میں حصہ لینے والے قیدیوں کو ملنے والی اجرت دیگر نوعیت کے کاموں سے زیادہ ہے لیکن ناقدین کے نزدیک اس کام میں جن خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کے حساب سے قیدیوں کی فی گھنٹہ اجرت بہت کم ہے۔


لاس اینجلس میں تیز ہواؤں سے آگ میں شدت کا اندیشہ، کنٹرول کیلئے کوششیں جاری

نیویارک،14جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں ایک بار پھر تیز ہواؤں کے سبب جنگلات کی آگ مزید مقامات تک پھیلنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ متاثرہ علاقوں میں مزید فائر فائٹرز کے ساتھ ساتھ آگ کو کنٹرول کرنے والے آلات پہنچائے جا چکے ہیں۔خبر رساں ادارے‘ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق اتوار سے تیز ہواؤں کا نیا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ جب کہ حکام نے منگل کو ہواؤں کی رفتار 50 سے 120 کلو میٹر فی گھنٹہ ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔اس تیز ہوا میں آگ پھیلنے سے اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب تک دو مقامات پر بڑی آگ کو کنٹرول کرنے کی پیش رفت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

آگ کے سبب ہزاروں مکان جل کر راکھ ہو چکے ہیں جب کہ حکام نے 24 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ البتہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اموات کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔نیشنل ویدر سروس نے کہا ہے کہ ہواؤں کی رفتار منگل کی صبح سے تیز ہو سکتی ہے جب کہ یہ تیز ہوائیں بدھ میں تک جاری رہیں گی۔ویدر سروس نے منگل کا دن زیادہ خطرناک قرار دیا ہے۔ لاس اینجلس شہر کے ارد گرد ریاست کیلی فورنیا کے جنوبی علاقوں کے لیے آگ کی انتہائی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ ان میں متعدد گنجان آباد علاقے بھی شامل ہیں۔لاس اینجلس میں پیر کو ان ممکنہ مقامات میں آگ کو کنٹرول کرنے والے کیمیکل کے ساتھ جہازوں اور فائر فائٹرز کو تعینات کر دیا گیا تھا جن کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔پانی کے ہائیڈرنٹ گزشتہ ہفتے خشک ہو گئے تھے جس کے بعد آگ بجھانے کے لیے درجنوں ٹرک تعینات کر دیے گئے ہیں جن سے پانی کی سپلائی کی جا رہی ہے۔

لاس اینجلس کے فائر ڈپارٹمنٹ کے سربراہ نے کہا ہے کہ کسی بھی قسم کے ممکنہ حالات کے لیے عملہ تیار ہے۔ تاہم انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ ممکنہ فائر زون میں مقیم افراد کو کسی بھی وقت انخلا کے لیے تیار رہنا چاہیے۔حکام نے تجویز کیا ہے کہ ہائی رسک والے علاقوں کے شہریوں خطرہ محسوس کرنے پر انخلا کر لینا چاہیے اور سرکاری طور پر علاقہ چھوڑنے کے احکامات کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آگ سے متاثرہ علاقے میں ڈرون اڑانے سے گریز کریں کیوں کہ ان مقامات پر فائر ڈپارٹمنٹ سمیر دیگر ادارے آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں جب کہ ڈرون کے سبب مشکلات پیش آ سکتی ہیں یا کوئی حادثہ ہو سکتا ہے۔لاس اینجلس پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے تین افراد کو حراست میں بھی لیا ہے جو اس علاقے میں دو مختلف مقامات پر ڈرون اڑا رہے تھے۔ ان افراد کے ڈرون بھی قبضے میں لیے جا چکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ لاس اینجلس میں لگ بھگ 160 اسکوائر کلو میٹر کا علاقہ متاثر ہو چکا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ آگ کے سبب جہاں اموات میں اضافے کا اندیشہ ہے وہیں دو درجن سے زائد لاپتا افراد کی تلاش کا کام بھی جاری ہے۔حکام کے مطابق کئی ایسے افراد جن کو پہلے لاپتا قرار دیا گیا تھا وہ مل چکے ہیں۔ دیگر کی تلاش جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button