کیرالہ کی شرح پیدائش میں گراوٹ سے تشویش لاحق
پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی تشویشناک
نئی دہلی،14جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) جنوبی کوریا، جاپان اور بہت سے یورپی ممالک کی تیزی سے کم ہوتی آبادی اہم سماجی چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔ آنے والے وقت میں ان ممالک کو آبادی کی شدید کمی کی وجہ سے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تشویش کی بات یہ ہے کہ اب ہندوستان میں بھی ایسی ہی تصویر سامنے آر ہی ہے۔ ہندوستان کی کچھ ترقی یافتہ ریاستوں میں صورتحال مسلسل تشویشناک ہوتی جارہی ہے۔ مثال کے طور پر ان دنوں کیرالہ کی صورتحال کچھ یوں ہے۔جسے اکثر یورپ آف انڈیا کہا جاتا ہے۔یہ ملک کے بہترین صحت اور تعلیم کے نظام کے ساتھ ساتھ اعلیٰ روزگار کی شرح اور فی کس آمدنی پر فخر کرتا ہے، یہ ایک ترقی یافتہ ریاست کے معیار پر پورا اترتا ہے۔ جبکہ کیرالہ میں وقت کے ساتھ ساتھ شرح پیدائش میں زبردست کمی آئی ہے۔
یہاں کی آبادی مسلسل کم ہو رہی ہے۔سال 2024 تک اس ریاست کی تخمینہ آبادی 3.6 کروڑ ہے، جب کہ 1991 میں آبادی 2.90 کروڑ تھی۔ پچھلے 35 سالوں میں اس ریاست کی آبادی میں صرف 70 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق اس وقت اس ریاست کی آبادی 3.34 کروڑ تھی۔ اس ریاست نے مستحکم آبادی کا ہدف تقریباً حاصل کر لیا ہے۔ کیرالہ میں وبائی امراض کے بعد کی آبادی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق شرح پیدائش 400,000 سے نیچے آگئی ہے۔ یہ کمی 2018 کے بعد تیزی سے ہوئی ہے۔سال 2021 میں جاری ہونے والے سرکاری اعداد و شمار میں پہلی بار کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جس میں 419,767 پیدائشیں درج ہیں۔ 2023 کے اعداد و شمار جو جلد شائع ہونے والے ہیں۔ آبادی کے سائنس دانوں کے مطابق، آبادی کی موجودہ سطح کو برقرار رکھنے کے لیے شرح پیدائش 2.1 کی ضرورت ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ ہر عورت کو کم از کم 2.1 بچوں کو جنم دینا چاہیے۔ کیرالہ نے یہ ہدف 1987-88 میں حاصل کیا تھا۔ کیرالہ میں تقریباً 100 فیصد پیدائش ہسپتالوں میں ہوتی ہے۔ریاست میں صحت کی دیکھ بھال کا ایک اچھا نظام ہے۔ جس میں بچوں کی اموات کی شرح یورپی ممالک کے برابر ہے۔ کیرالہ میں بچوں کی اموات کی شرح فی ہزار پیدائش پر صرف چھ ہے۔ جو کہ 30 کی قومی اوسط سے بہت کم ہے، بہت سے ماہرین اور ڈاکٹروں کے مطابق، کیرالہ کی آبادی گزشتہ تین دہائیوں سے مستحکم ہے۔تاہم پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی تشویشناک ہے۔ 2023 کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مزید گر کر 1.35 فیصد رہ جائے گا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کیرالہ میں زیادہ تر جوڑوں کا ایک ہی بچہ ہے۔ اور لوگوں کی بڑی تعداد بے اولاد ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو آنے والے سالوں میں کیرالہ کی آبادی کم ہونا شروع ہو جائے گی۔



