بین الاقوامی خبریںسرورق

اتوار سے 95 فلسطینیوں کو رہا کیا جائے گا: اسرائیل کا اعلان

جنگ بندی کے اطلاق سے قبل اسرائیل کے غزہ کی پٹی پر حملے جاری

مقبوضہ بیت المقدس ،18جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اسرائیلی حکام نے غزہ کی پٹی میں 15 سے زائد تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد حماس کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے پہلے تبادلے کے عمل کے ایک حصے کے طور پر 95 فلسطینی قیدیوں کے نام شائع کردیے، ان فلسطینی قیدیوں کو اتوار سے رہا کر دیا جائے گا۔ایجنسی فرانس پریس کے مطابق وزارت انصاف نے ایک بیان میں کہا کہ ”قیدیوں کی رہائی اتوار 16:00 بجے (14:00 بجے) سے پہلے نہیں ہوگی۔ یہ اعلان اسرائیل کی مِنی گورنمنٹ کی جانب سے معاہدے کی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے۔ لیکن یہ فیصلہ ابھی تک کابینہ کی منظوری کا منتظر ہے۔واضح رہے غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ تین مراحل پر مشتمل ہوگا۔ اس معاہدے کا نفاذ کل اتوار سے ہوگا۔ پہلے مرحلہ چھ ہفتوں پر محیط ہے، اس مرحلے میں اسرائیلی افواج بتدریج غزہ کی پٹی سے انخلا کرے گی۔

33 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا۔ ان 33 یرغمالیوں میں 50 سال سے زیادہ عمر کی تمام خواتین، بچے اور مرد شامل ہوں گے۔ ان میں دو امریکی شہری کیتھ سیگل اور سجوئے ڈیکل چن بھی شامل ہوں گے۔معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد سے متعلق مذاکرات پہلے مرحلے کے سولہویں روز شروع کرنا ہوں گے۔ اس دوسرے مرحلے میں تمام باقی ماندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا کہا گیا ہے۔ ایک مستقل جنگ بندی پر عمل درآمد کرنا بھی شامل ہے۔ ایک ہزار سے زائد فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے غزہ سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کی امید قائم کی گئی ہے۔تیسرے مرحلے میں باقی تمام لاشوں کی واپسی، اور مصر، قطر اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں غزہ کی تعمیر نو کا آغاز کرنے کو رکھا گیا ہے۔


غزہ جنگ بندی معاہدے کے پہلا مرحلہ: اسرائیل 737 قیدیوں کو رہا کرے گا

مقبوضہ بیت المقدس،18جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اسرائیل کی وزارتِ انصاف نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز منظور شدہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے پہلے مرحلے میں 737 قیدی اور زیرِ حراست افراد کو رہا کیا جائے گا۔وزارت نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہاکہ حکومت اس وقت جیل سروس کی تحویل میں موجود 737 قیدیوں اور زیرِ حراست افراد کی رہائی کی منظوری” دیتی ہے۔وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق اسرائیل کی کابینہ نے ہفتے کے اوائل میں جنگ بندی معاہدے کی منظوری کے لیے ووٹ دیا جس سے اس کے نفاذ کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال ختم ہو گئی۔

وزارت نے مردوں، عورتوں اور بچوں کے نام بتائے جنہیں اتوار کو مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے رہا کیا جائے گا۔اس سے قبل اس نے 95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست شائع کی تھی جن میں اکثریت خواتین کی ہے۔ انہیں غزہ میں اسرائیلی اسیران کے بدلے رہا کیا جائے گا۔توسیع شدہ فہرست میں فلسطینی صدر محمود عباس کی فتح پارٹی کے مسلح ونگ کے سربراہ زکریا زبیدی بھی شامل ہیں۔زبیدی 2021 میں پانچ دیگر فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کی گلبوا جیل سے فرار ہوئے جن کی کئی دنوں تک تلاش جاری رہی اور انہیں فلسطینیوں نے ایک ہیرو کے طور پر سراہا۔بائیں بازو کی فلسطینی قانون ساز خالدہ جرار کو بھی رہا کیا جائے گا جنہیں اسرائیل نے کئی مواقع پر گرفتار اور قید کیا۔

جرار پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کی ایک نمایاں رکن ہیں جسے اسرائیل، امریکہ اور یورپی یونین نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔مغربی کنارے میں دسمبر کے آخر میں 60 سالہ بزرگ قیدی کو حراست میں لیا گیا اور تب سے بغیر کسی الزام کے وہ قید میں ہیں۔حماس کے قریبی دو ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ رہا ہونے والے یرغمالیوں کا پہلا گروپ تین اسرائیلی خاتون فوجیوں پر مشتمل ہے۔تاہم چونکہ فلسطینی اسلامی تحریک فوجی عمر کے کسی بھی اسرائیلی کو فوجی سمجھتی ہے جس نے لازمی سروس مکمل کی ہو تو اس بات کا اطلاق ان شہریوں پر بھی ہو سکتا ہے جو حملے کے دوران اغوا کیے گئے تھے۔

اے ایف پی کی حاصل کردہ فہرست میں پہلے مرحلے میں رہا ہونے والے 33 یرغمالیوں میں پہلے تین نام 30 سال سے کم عمر خواتین کے ہیں جو حماس کے حملے کے دن فوجی خدمات پر مامور نہیں تھیں۔وزارتِ انصاف کے ترجمان نوگا کاٹز نے کہا ہے کہ پہلے تبادلے میں رہا ہونے والے قیدیوں کی حتمی تعداد کا انحصار حماس کی طرف سے رہا کردہ زندہ یرغمالیوں کی تعداد پر ہو گا۔


جنگ بندی کے اطلاق سے قبل اسرائیل کے غزہ کی پٹی پر حملے جاری

غزہ،18جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اسرائیل فائر بندی کا معاہدہ نافذ ہونے سے چند گھنٹے پہلے حاصل موقع کو بھی ہاتھ سے نہیں جانے دے رہا اور اس نے تباہ حال غزہ کی پٹی پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ آج ہفتے کے روز بتایا کہ آخری چند گھنٹوں میں پوری غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملوں میں شدت آ گئی ہے۔اسی طرح اسرائیلی جنگی کشتیوں نے بھی غزہ شہر کے ساحل اور النصیرات کیمپ کی سمت فائرنگ کی۔

اسرائیلی توپ خانوں نے غزہ شہر کے علاقے الصبرہ میں فلسطینی شہریوں کے گھروں کو اور شمالی علاقوں کو بھی گولہ باری کا نشانہ بنایا۔اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے شمال میں بیت حانون، جبالیا کیمپ کے اطراف اور الصفطاوی کے علاقے میں شہریوں کے کئی گھر دھماکے سے اڑا دیے۔

بدھ کی شام اسرائیل اور حماس تنظیم کے درمیان معاہدے کے اعلان کے بعد سے غزہ کی پٹی پر حملوں کا سلسلہ نہیں تھما ہے۔فلسطینی شہری دفاع کے ادارے نے اسرائیلی بم باری میں جمعے کی شام تک 100 سے زیادہ افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔غزہ میں پندرہ ماہ جاری رہنے والی خونریز جنگ میں 46 ہزار سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہوئے جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔ان کے علاوہ تقریبا بیس لاکھ فلسطینی بے گھر ہو گئے۔

اس دوران میں اسرائیل کی عائد کردہ پابندیوں کے سبب طبی اور غذائی امداد کی شدید قلت ہو گئی۔اس کے نتیجے میں انسانی صورت حال ابتر ہو گئی اور بھوک، بیماری اور طبی نگہداشت کی عدم فراہمی پھیل گئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button