دماغی مشق,منفی خیالات کو جھٹکنا ذہنی صحت کیلئے مفید
منفی خیالات کو دبانا آپ کی ذہنی صحت کیلئے اچھا ہے
نئی تحقیق کے مطابق منفی خیالات کو دبانا آپ کی ذہنی صحت کیلئے اچھا ہے، یہ نتائج عام طور پر پائی جانے والی اس سوچ کے برعکس ہیں جس کے تحت خیالات کو نظر انداز کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمارے لا شعور میں رہتے ہیں اور ہمارے طرز عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایم آرسی کا کمیشن اینڈ برین سائنسز یونٹ کے محققین نے دنیا بھر میں 120 رضا کاروں کو ان منفی واقعات کے بارے میں خیالات دبانے کی تربیت دی جو انہیں پریشان کرتے تھے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ اس سے نہ صرف یہ ڈپریشن کم ہوتی گئی بلکہ مطالعے میں شامل افراد کی ذہنی صحت میں بھی بہتری آئی۔
پروفیسر مائیکل اینڈرسن کے بقول ’’ہم سب آسٹرین نیورولوجسٹ سگمنڈ فرائیڈ کے اس خیال سے واقف ہیں کہ اگر ہم اپنے احساسات یا خیالات کو دبائیں تو یہ ہمارے لاشعور میں رہ جاتے ہیں اور ہمارے رویے پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ سائیکو تھراپی کا واحد مقصد ان خیالات کو ختم کرنا ہے تاکہ کوئی بھی شخص ان سے نمٹ سکے، خیالات کو دبانا یہ پریشانی کو سر سے جھاڑ دو کی بہترین مثال ہے۔
ہم نے یہ دیکھنے کا فیصلہ کیا کہ آیا ہم لوگوں کو اس سے بہتر طریقے سے نمٹنے میں مدد کرسکتے ہیں یا نہیں، مطالعے میں ہر شخص سے کہا گیا کہ وہ ایسے منظر ناموں کے بارے سوچیں میں جو ان کی زندگی کے آئندہ دو برسوں میں رونما ہوسکتے ہیں۔ 20 منفی خوف اور خدشات جن سے وہ خوفزدہ تھے اور 20 مثبت امید اور خواب۔ ہر منظر نامے کے لیے انہیں ایک کیو ور ڈاور ایک تفصیل فراہم کرنا تھی۔ ہر واقعے کی درجہ بندی متعدد نکات، ان کے پیش آنے کے امکانات، مستقبل میں دوری، واقعے کے متعلق اضطراب یا خوشی کی سطح، سوچ کی فریکوئنسی، موجودہ تشویش کی سطح، طویل مدتی اثرات اور جذباتی شدت کے طور پر کی گئی تھی۔
رضا کاروں نے اپنی ذہنی صحت کے جائزے کے لیے سوالنامے بھی مکمل کئے۔ اس کے بعد رضا کاروں کو 20 منٹ کی تربیت دی، جس میں 12 ایسے ٹرائلز شامل تھے جن کا تصور نہ کیا گیا ہو اور 12 ایسے تھے جن کا تصور کیا گیا ہو، جہاں انہیں کہا گیا کہ کیوور ڈ دیئے جانے کے بعد وہ یا تو واضح طور پر سوچیں، یا کسی واقعے کے بارے میں سوچیں، تین ماہ بعد رضا کاروں کو ایک بار پھر کہا گیا کہ وہ ہر واقعے کی اضطراب کی سطح اور جذباتی شدت پر واضح درجہ بندی کریں۔
مطالعے کے مطابق دونوں جگہوں پر رضا کاروں نے بتایا کہ دبے ہوئے واقعات کم واضح اور کم خوفناک تھے، انہوں نے خود کو ان واقعات کے بارے میں کم سوچتے ہوئے پایا۔ ڈاکٹر مامت کا کہنا تھا یہ بات بالکل واضح تھی کہ وہ واقعات جن میں شرکانے دبانے کی مشق کی، وہ دیگر واقعات کے مقابلے میں کم واضح اور جذباتی طور پر کم بے چینی پیدا کرنے والے تھے اور مجموعی طور پر شرکا کی ذہنی صحت میں بہتری آئی۔ لیکن ہم نے ان شرکا میں سب سے زیادہ اثر دیکھا جنہیں غیر جانبدار خیالات کے بجائے خوف زدہ خیالات کو دبانے کی مشق دی گئی تھی۔
نتائج کے مطابق خیالات کو دبانے سے ان لوگوں کی ذہنی صحت میں بھی بہتری آئی جو ممکنہ طور پر پوسٹ ٹرومیٹک اسٹریس ڈس آرڈر میں مبتلا ہیں۔ پوسٹ ٹرومیٹک اسٹریس کے شکار افراد میں جو منفی خیالات کو دباتے ہیں، ان کے منفی ذہنی صحت کے اسکور میں اوسطاً 16 فیصد کمی ہوئی جبکہ مثبت ذہنی صحت کے اسکور میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا۔



