بیت اللہ میں سب سے پہلے پنکھے لگوانے والا شخص نواب میر عثمان علی خان
پیش کش: محمد محمد امین حبان بنگلور
حیدرآباد دکن شہر کا نام حیدر علی کے نام پر رکھا گیا۔ مغل بادشاہ آصف جاہ نے 1724ء میں اس ریاست کے نواب کو نظام الملک کا خطاب دیا۔ 1724ء سے 1950ء تک حیدرآباد دکن ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر موجود تھی۔ یہ خطاب بعد میں مختصر ہوتے ہوئے عوام میں صرف نظام تک محدود ہوگیا، حیدر آباد کے نواب محبوب علی خان کے بیٹے میر عثمان علی خان بہادر نظام کا عرصہ حکومت 1911ء سے 1948ء تک کا تھا۔ انہیں 1937ء میں دنیا کا امیر ترین انسان قرار دیا گیا اور اس وقت ان کے اثاثوں کی مالیت 2.367 بلین ڈالر تھی۔
یہ اثاثے صرف سونے اور چاندی کے اصلیت بینگ آف حیدر آباد دکن کے ظاہر شدہ اثاثے تھے۔ 1941ء میں انڈیا کا پہلا اسٹیٹ بینک میر عثمان علی خان بہادر نے قائم کیا ہندوستان 1917ء میں جب انگریز کی غلامی سے آزاد ہوا تو حکومت ہند کے پاس زر مبادلہ کی شکل میں صرف 1.3 بلین ڈالر تھے جبکہ حیدر آباد دکن میں حیدر آبادی روپے کی قیمت برٹش پاؤنڈ کے مساوی تھی اور ہندوستان میں 100 روپے کا نوٹ سب سے پہلے اسٹیٹ بینک حیدرآباد نے جاری کیا۔
امریکی ڈالر کی قیمت حیدر آبادی روپئے کے مقابلے میں نصف سے بھی کم تھی۔ میر عثمان علی خان کو رولز رائس کار پسند تھی جو اس وقت دنیا کی سب سے قیمتی اور مہنگی کار ہوا کرتی تھی اس کا آرڈر دینے والے شخص کی مالی حیثیت پہلے کمپنی چیک کرتی تھی اور متعلقہ شخص کے ہاتھ اور پاؤں کی پیمائش کرتی تھی، ہاتھ اور پاؤں کے حساب سے سیٹ اور گیئر ناپ کے لگائے جاتے تھے، جب کمپنی نے ان کی حیثیت پوچھی تو میر عثمان علی خان نے اپنے اثاثوں کی تفصیلات رولس رائس کمپنی کو بھجوائیں۔
کمپنی نے جواب میں کہا ٹھیک ہے، آپ کی حیثیت ہے آپ اس کار کو خرید سکتے ہیں۔ مگر میر عثمان علی خان نے کہا مجھے ایک نہیں پچاس کاریں خریدنی ہیں۔ کمپنی نے کہا: پچاس کاریں ہم ایک ساتھ نہیں دے سکتے۔ میر عثمان علی خان نے کہا: کوئی بات نہیں، جب آپ پچاس کاریں بنا لیں تو جہاز میں ایک ساتھ تمام کاریں بھیج دیں، رقم میں ایڈوانس میں دئے دیتا ہوں۔ مقررہ عرصے میں دنیا کی مہنگی ترین پچاس کاریں حیدر آباد دکن میں پہنچا دی گئیں، میر عثمان علی خان نے کاروں کا معائنہ کیا اور ان پچاس کی پچاس کاروں کی چھتیں اور سیٹیں نکلوا دیں۔
اب ان پچاس رولز رائس کاروں سے کچرا اٹھانے کا کام کیا گیا۔ پورے حیدرآباد شہر میں رولس رائس کاریں کچرا اٹھانے کا کام کرنے لگیں، رولز رائس کمپنی کا مالک انگلینڈ سے آیا اور میر عثمان علی خان کے پاؤں پکڑ لیے کہ میری کمپنی برباد ہوجائے کی مجھ سے غلطی ہوگئی جو آپ کی مالی حیثیت کا حساب مانگا۔
یہ کاریں آج بھی حیدر آباد دکن میں موجود ہیں اور کچھ کاریں حیدرآباد دکن کے چوکوں پر نصب ہیں۔یہ وہی میر عثمان علی خان تھے جنہوں نے سب سے پہلے خانۂ خدا بیت اللہ شریف میں پنکھے لگوائے۔ جب دنیا 1912ء میں دوسری جنگ عظیم لڑ رہی تھی اور سعودی عرب میں تیل بھی دریافت نہیں ہوا تھا، سعودی عرب ایک غریب ملک تھا، بیت اللہ شریف میں ان پنکھوں کے نیچے کھڑے ہوکر شاہ فہد بن عبد العزیز نے دعائیں دیتے ہوئے کہا تھا، میر عثمان! تو نے خدا کے گھر کو ٹھنڈا کیا، خدا تیری سلطنت اور نسلیں آباد رکھے۔ بہت عرصے تک سعودی عرب کی مالی معاونت میر عثمان علی خان صاحب کے خزانے سے ہوتی رہی۔
یہ وہی دور تھا جہاں میر عثمان، جن کی سونے اور چاندی کی کانیں تھیں، اپنا ذاتی جہاز اور ذاتی ایئر پورٹ رکھتے تھے وہ 438 کروڑ روپے کی قیمت والے ہیرے کو پیپر ویٹ کی طرح استعمال کرتے تھے، آج تک نیلامی میں ان کے ذاتی زیورات رکھے جاتے ہیں لیکن ان کی مالیت کے قریب آج تک دنیا کا کوئی امیر ترین شخص بھی نہیں پہنچ پاتا اور وہ نیلامی ہر سال منسوخ کردی جاتی ہے۔
1947ء میں تقسیم ہند کے بعد جب پڑوسی ملک اپنے پیروں پر کھڑا نہ ہوسکا اور حکومت کے پاس سرکاری تنخواہیں ادا کرنے کے پیسے بھی نہیں تھے تو محمد علی جناح اور لیاقت علی خان نے میر عثمان علی خان سے درخواست کی کہ ہمیں اسٹیٹ بینک قائم کرنا ہے کیونکہ آپ کی ریاست میں اسٹیٹ بینک پہلے سے موجود ہے، لہٰذا آپ ہماری مدد کریں انہوں نے کہا کہ اس کے قیام کے لیے سونے کی ضرورت ہوتی ہے اور آپ کا ملک تو ایک نیا ملک ہے جہاں سونے کے ذخائر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عثمان علی خان صاحب نے نہ صرف جہاز بھر کر سونا پڑوسی ملک بھیجا بلکہ اپنے وزیر خزانہ سردار احمد کو بھی بھیج دیا، اس سونے کی بنیاد پر پڑوسی ملک کا اسٹیٹ بینک بنا، ریاست حیدرآباد کے وزیر خزانہ نے پڑوسی ملک کا اسٹیٹ بینک بنایا۔
اس اسٹیٹ بینک کے وجود میں آنے کے بعد پڑوسی ملک نے کام کرنا شروع کیا اور آج تک اس کا معاشی نظام میر عثمان علی خان نظام حیدر آباد دکن کے دئے جانے والے اس سونے کی بنیاد پر چل رہا ہے۔ 1962ء میں بھارت، چین جنگ کے موقع پر میر عثمان علی خان نے بھارتی سرکار کو پانچ ہزار کلو سونا، جواہرات اور نقد رقم امداد کے طور پر دی، چین بھارت جنگ کے وقت استعمال کیے گئے بھارتی ہتھیار اور بارود بھی میر عثمان علی خان کے پیسوں سے ہی خریدے گئے تھے، اگر میر عثمان پانچ ہزار کلو سونا نہ دیتے تو بھارت کے ایک بڑے حصے پر چین کا قبضہ ہوچکا ہوتا، عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد کا سنگ بنیاد بھی میر عثمان نے ہی رکھا تھا، جو آج ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ میر عثمان نے امداد دیتے وقت کبھی کسی کا مذہب نہیں پوچھا، انہوں نے جہاں ایک طرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو پانچ لاکھ روپے امداد دئے وہیںبنارس ہندو یونیورسٹی کو دس لاکھ روپے بھیجے۔
اس کے علاوہ میر عثمان علی خان نے 1948ء میں ایک کروڑ 89 ہزار ایک سو اکہتّر ملین پاؤنڈ ویسٹرن بینک لندن سے ٹرانسفر کروا کر پڑوسی ملک کے حوالے کئے۔ اس عطیہ اور مسلمان ریاست سے لگاؤ کے نتیجے میں حکومت ہند نے اپنی تمام ریاستوں اور راج واڑے ختم کرکے ان ریاستوں پر قبضہ کرلیا۔



