آئندہ اگر کوئی انجانا شخص فون پر آپ کو پریشان کرے یا ڈرائیونگ کے دوران اچانک کوئی دوسرا ڈرائیور غیر متوقع طور پر اپنی حرکتوں کے ذریعے آپ کو اشتعال دلانے کی کوشش کرے یا ٹریفک جام میں پھنس کر آپ غصے پر قابو نہ رکھ سکیں تو ان لمحات میں آپ گہری سانس لے کر خود کو پُر سکون رکھیں کیونکہ امریکی سائنس دانوں نے خبر دار کیا ہے کہ غصہ آپ کی جان لے سکتا ہے۔
ریسرچرز نے اپنی تحقیق کے دوران دیکھا ہے کہ اچانک اگر کسی کو کسی کی حرکت یا گفتگو سے غصہ آجائے تو اس سے خون کی نالیوں کے کام پر برا اثر پڑتا ہے اور چالیس منٹ کے اندر اندر متعلقہ شخص دل کے دورے یا فالج کے حملے کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔ اس تحقیقی جائزے کے مصنف اور کو لمبیا یونیورسٹی میں میڈیسن کے پروفیسر ڈاکٹر ڈائچی شمبو کا یہ کہنا ہے کہ ہم نے ریسرچ کے دوران یہ دیکھا ہے کہ جب کبھی کوئی غصے میں مبتلا ہوتا ہے یا اشتعال میں آتا ہے تو اس کی خون کی نالیاں معمول کے مطابق کام کرنے کے قابل نہیں رہتیں تاہم ابھی تک ہم یہ نہیں جان سکے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔
ریسرچر ز نے بتایا ہے کہ ایسے مواقع پر خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں جبکہ نظریاتی طور پر ہمیں معلوم ہے کہ خون کی عدم فراہمی سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس تحقیق کے سلسلے میں ریسرچرز نے 280، رضا کاروں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا تھا جن کی اوسط عمر 26 سال تھی۔
تمام شرکاء کو یہ ہدایت کی گئی تھی کہ وہ 30 منٹ تک بالکل پُر سکون رہیں۔ اس دوران انہیں بات چیت کی اجازت نہیں تھی، نہ ہی وہ اپنا فون استعمال کر سکتے تھے۔ کچھ پڑھنے یا سونے پر بھی پابندی تھی۔ اس کے بعد ان میں سے ہر ایک کو 8 منٹ پر محیط چار کام میں سے ایک کو انجام دینے کی ہدایت کی گئی اور اس سے پہلے ہر بار ان کے بلڈ پریشر کی پیمائش کی گئی۔ ایک کام یہ تھا کہ ان سے کہا گیا کہ وہ کوئی ایسا واقعہ یاد کریں؟ جس میں ان کو بہت غصہ آیا ہو۔ دیگر کام جو رضا کاروں سے لئے گئے وہ فکر اور پریشانی لاحق ہونے والے واقعات کو یاد کرنے سے متعلق تھا، ان سے کہا گیا کہ وہ ایسے مختلف جملے پڑھیں جن سے علم یا افسردگی کا اظہار ہو رہا ہو۔
چوتھا کام شر کا کو یہ دیا گیا کہ وہ 100 تک بار بار گنتی گنیں۔ بلڈ پریشر اور خون کی نالیوں کے پھیلاؤ کی پیمائش تین منٹ اور پھر 40 منٹ، 70، منٹ اور 100 منٹ بعد تک لی گئی۔ خلئے کی صحت کا اندازہ لگانے کے لئے خون کے نمونے بھی لئے گئے۔ ریسرچرز نے بعد میں دیکھا کہ ماضی کے ان واقعات کو یاد کرنے سے جو غصے کا سبب بنے، رضا کاروں کے خون کی نالی کے پھیلاؤ پر اثر پڑا اور صفر سے 40 منٹ کے بعد خون کی نالی معمول کی حالت پر آگئی تھی تاہم غم ناک یا افسوسناک واقعات کو یاد کرنے سے خون کی نالی کی اندرونی دیواروں پر کوئی نمایاں اثر دیکھنے میں نہیں آیا۔
اس طبی جائزے سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ذہنی حالت کا قلبی شریانی صحت پر اثر پڑتا ہے اور شدید نوعیت کی جذباتی حالتیں مثلاً بہت زیادہ غصے میں یا شدید علم کی حالت میں دل اور دماغ دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ بہت زیادہ غم اور صدمے کی کیفیت میں دل شکستگی کا Tokotsubo لاحق ہو سکتا ہے جسے Broken Heart Syndrome مرض Cardiomyopathy بھی کہتے ہیں۔ علاوہ ازیں زلزلہ جیسے واقعات سے یا اگر کوئی شخص فٹ بال میچ دیکھ رہا ہو اور اس کی پسندیدہ ٹیم شکست کھا رہی ہو تو ایسے موقع پر وہ اتنا زیادہ ذہنی دبائو اور افسردگی محسوس کر سکتا ہے کہ دل کی (Arrhythmias) بیماری یا بے قاعدہ دھڑکن جسے Myocardial Infarction کہتے ہیں، اس میں مبتلا ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے



