سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

کاٹن کینڈی بڑھیا کے بال سے کینسر کا خدشہ

اس مٹھائی کے نمونے جانچ پڑتال کے لئے لیباریٹری بھیجے گئے تھے۔

بہت ممکن ہے بچپن میں آپ نے بھی ’’بڑھیا کے بال کھائے ہوں۔ یہ سر راہ بکنے والی ایک قسم کی مٹھائی ہے جو گلابی رنگ کے باریک بالوں کی صورت میں ایک ڈنڈی میں لپیٹ کر شفاف پلاسٹک کے پیکٹوں میں فروخت ہوتی ہے اور بچے والدین سے ضد کر کے اسے خریدنے کی فرمائش کرتے ہیں لیکن اب ایک طبی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کاٹن کینڈی سے کینسر ہو سکتا ہے اور اس وجہ سے بھارت کی کئی ریاستوں میں اس مقبول گلابی مٹھائی کی فروخت پر پابندی لگادی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو کی حکومت نے اس ہلکی پھلکی مٹھائی پر پابندی پر اس وقت عملدرآمد شروع کیا جب لیباریٹری کے ٹیسٹ سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ اس میں کینسر کا سبب بننے والا ایک جزو روڈامین بی (Rhodamine-B) موجود ہے۔

اس مٹھائی کے نمونے جانچ پڑتال کے لئے لیباریٹری بھیجے گئے تھے۔ پانڈیچری کی حکومت نے بھی اس مٹھائی پر پابندی لگائی تھی جبکہ دیگر ریاستوں نے بھی اس کے نمونے ٹیسٹ کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ دنیا بھر میں پارکوں، میلوں ٹھیلوں اور دیگر تفریحی مقامات کے باہر، جہاں بچوں کا آنا جانا زیادہ ہوتا ہے ’’بڑھیا کے بال‘‘ فروخت ہوتے ہیں جہاں بچے منہ میں تیزی سے گھل جانے والی اس مٹھائی کو خرید کر اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں تاہم بعض بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مٹھائی دیکھنے میں جتنی سیدھی سادی اور معصوم نظر آتی ہے، حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔

کاٹن کینڈی میں شامل بعض اجزا سے کینسر ہو سکتا ہے اور وہ جسم کے تمام اعضا کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مٹھائی کو گلابی رنگ دینے کے لئے جو کیمیائی مرکب روڈا مین بی‘‘ استعمال کیا جاتا ہے، اس سے مٹھائی کے باریک ریشوں میں گلابی چمک پیدا ہوتی ہے اور یہ کیمیکل کپڑوں کا سمیٹکس اور روشنائی کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ طبی جائزوں سے معلوم ہو چکا ہے کہ اس کیمیکل سے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یورپی ممالک اور امریکی ریاست کیلی فورنیا میں غذائی اشیا کورنگین بنانے کے لئے اس کیمیکل کا استعمال غیر قانونی ہے۔ تامل ناڈو کے وزیر صحت ما سبر اما نین نے ’’بڑھیا کے بال پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کھانے پینے کی چیزوں میں روڈا مین بی‘‘ شامل ہو تو ایسی اشیا کی پیکیجنگ، در آمد، فروخت یا شادی بیاہ کی محفلوں اور دیگر مقامات پر کھانے کے لئے انہیں پیش کرنے والوں کو فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈایکٹ 2006ء کے تحت سزادی جائے گی۔ تامل ناڈو کی پیروی کرتے ہوئے آندھراپردیش اور دہلی کی حکومتوں نے بھی کاٹن کینڈی پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

برطانوی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ برطانیہ میں پارکوں اور دیگر مقامات کے باہر جو کاٹن کینڈی فروخت ہوتی ہے، انہیں کھانے سے کینسر میں مبتلا ہونے کا خطرہ تو نہیں ہو گا لیکن اگر بہت زیادہ کھایا جائے تو اس سے آپ کے دانت گل سڑ سکتے ہیں۔ بھارتی ریاستوں میں بچوں کی اس مرغوب مٹھائی پر کینسر کے حوالے سے پابندی پر تبصرہ کرتے ہوئے ان ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ کیمیائی مرکب کی خصوصیات ہوتی ہیں۔

روڈ امین بی جس کی وجہ سے خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں وہ 2013ء کے بعد سے برطانیہ اور یورپی یونین میں غذائی اشیا اور مشروبات میں استعمال کرنا ممنوع قرار دیا جا چکا ہے کیونکہ اس مادے میں کینسر کا سبب بننے والی برطانیہ میں فروخت ہونے والی کائن کینڈی تو محفوظ ہو سکتی ہے لیکن ہمارے ملک میں فوڈ انسپکٹرز کی فوج کی موجودگی میں بھی نہ صرف کاٹن کینڈی بلکہ بے شمار رنگین غذائی اشیا میں ایسے کیمیائی رنگ بے دھڑک استعمال کئے جارہے ہیں جو کپڑوں کی رنگائی اور دیگر صنعتی مقاصد کے لئے مخصوص ہیں۔ یہ ڈائیز اور رنگ کینسر اور دیگر مہلک امراض کا سبب بن رہے ہیں اور ذمہ داران خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں

متعلقہ خبریں

Back to top button